حیات بشیر — Page 417
417 پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔کیونکہ حضور کے خدام کے لئے حضور کی ناراضگی کا تصور ایک نہایت ہی تکلیف دہ اور المناک تصور ہے۔اس پر حضرت میاں صاحب نے تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں آئندہ کے لئے چوکس رہو۔امام وقت کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے خزانے مضمر ہوتے ہیں۔بشرطیکہ انسان اپنے آپ کو اس کی مرضی کے مطابق کما حقہ ڈھال لے۔چنانچہ حضرت میاں صاحب کی یہ بر وقت تسلی و تشفی ہمارے لیے ایک عجیب ڈھارس کا موجب ہوئی۔“۲۶ رشتہ داروں سے حسن سلوک کی نصیحت کتاب کا بہت بڑھتا جا رہا ہے۔مگر حضرت میاں صاحب میں خوبیاں اس قدر زیادہ تھیں کہ اگر ہر خوبی کی ایک ایک مثال بھی بیان کی جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔اس لئے یہی مناسب سمجھا گیا ہے کہ چیدہ چیدہ اوصاف کی بعض نمایاں مثالیں پیش کر دی جائیں۔حضرت میاں صاحب اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ جو سلوک کیا کرتے تھے۔اس کی بعض جھلکیاں تو گذشتہ اوراق سے بھی نمایاں طور پر نظر آ رہی ہیں۔اور آپ کے خاندان کا ہر فرد اس کا زندہ گواہ بھی موجود ہے۔مگر دوسری خوبیوں کی طرح یہ خوبی بھی صرف آپ کی ذات تک ہی محدود نہ تھی بلکہ جماعت کے بعض افراد کو بھی اس پر کار بند ہو نے کی نصیحت فرمایا کر تے تھے محترمہ امته الشافی صاحبہ پشاور سے تحریر فرماتی ہیں کہ میں: ”جب بھی ملاقات کے لئے حاضر ہوتی تو سب خاندان والوں کے متعلق دریافت فرماتے اور تعلق رکھنے کی تلقین فرماتے ایک دفعہ میرے ایک عزیز ربوہ آئے اور مجھ سے ملے بغیر واپس چلے گئے اتفاق سے میں بھی اسی دن حضرت میاں صاحب سے ملنے گئی تو جاتے ہی فرمایا کہ تمہارے فلاں عزیز آئے تھے تم سے ملے؟ میں نے نفی میں جواب دیا تو فرمایا: ” معلوم ہوتا ہے کہ تم اپنے رشتہ داروں سے ملنا پسند نہیں کرتی ان کی ٹھیک طرح سے عزت و احترام نہیں کرتی جبھی تو تم سے ملے بغیر چلے گئے “ مجھے اتنی دفعہ تنبیہ کی کہ میں رو پڑی اور کافی دیر تک روتی رہی مگر آپ مجھے نصیحت فرماتے رہے غرض مجھے بڑا دکھ ہوا خصوصاً حضرت میاں صاحب کی خفگی کا اور میرے دل میں اس خیال نے جنم لیا کہ شاید میرے عزیز میری شکایت کر کے گئے ہیں تبھی حضرت میاں صاحب اتنے ناراض ہوئے۔چند دنوں بعد کیا دیکھتی ہوں کہ وہی