حیات بشیر — Page 418
418 میرے عزیز میرے گھر چلے آرہے ہیں اور آتے ہی کہنے لگے اب تو تمہارے پاس حکماً آنا پڑا کرے گا میرے دریافت کرنے پر بتایا کہ حضرت میاں صاحب نے سخت سرزنش کی کہ تم آتے ہو اور اس سے ملے بغیر چلے جاتے ہو تب میرا دل میاں صاحب کیلئے عزت و احترام سے بھر گیا ورنہ پہلے میں اپنی کم علمی کی وجہ سے خیال کر رہی تھی کہ حضرت میاں صاحب نے نعوذ باللہ اس دن طرفداری کی تھی۔“ ہے کسی کی موت کو بیوقت مت کہو محترم چودھری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ اس ء کا واقعہ تحریر فرماتے ہیں: ”ہندوستان کے ایک مسلم لیڈر فوت ہو گئے جماعت کی طرف سے ان کے ورثاء کو تعزیت کا تار جانا تھا میں نے ڈرافٹ بنایا اس میں timely demise بے وقت موت) کے الفاظ لکھ دیے جب میں اسے حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاس درستی کے لیے لے گیا تو آپ نے untimely کے لفظ کو اچھی طرح سے کاٹا اور فرمانے لگے کہ ہر انسان کی موت کا وقت معین ہے جو اللہ تعالی کے علم میں ہوتا ہے بعض اوقات وہ اپنے خاص الخاص بندوں کو بھی اس کا علم دے دیتا ہے جب بھی کوئی انسان موت سے ہمکنار ہوتا ہے تو وہ اپنے مقررہ وقت پر ہی مرتا ہے اس لئے کسی کی موت کو بے وقت کہنا درست نہیں۔“ ۲۸