حیات بشیر

by Other Authors

Page 352 of 568

حیات بشیر — Page 352

352 - ۲۵ آیات کی تلاوت ترک کی جا سکتی ہے۔ان آیات میں تقویٰ کا ذکر ہے۔آپ اس موقعہ پر خاوند بیوی کے حقوق سے تعلق رکھنے والی نصیحتیں دو چار منٹ کے لئے کر دیں اور اس سے پہلے برکت کے لئے سورۃ فاتحہ پڑھ لیں۔بس یہی کافی ہے۔اسلام رسوم کا غلام نہیں بلکہ روح کی طرف دیکھتا ہے۔بہر حال آپ اس قسم کی نصیحت کے بعد سب سے پہلے لڑکی کے ولی کو لڑکے اور لڑکی کا نام لینے کے بعد اور مہر کی مقدار بتانے کے بعد پوچھیں کہ کیا انہیں اپنی بیٹی یا بہن (جیسا بھی رشتہ ہو) کا نکاح اس قدر مہر پر فلاں شخص کے ساتھ منظور ہے؟ اور جب لڑکی کا ولی اپنی منظوری دیدے تو آپ لڑکے سے اسی طرح تفصیل بتا کر منظوری حاصل کر لیں۔اور اس کے بعد رشتہ کے بابرکت ہونے کی دعا کرا دیں۔بس یہی کافی ہے۔“ ۲۲۔مکرم بشیر احمد صاحب آرچرڈ نے برٹش گی آنا سے اپنے خط مؤرخہ ۶۱-۲-۲۶ میں لکھا کہ یہاں ایک غیر مبائع ڈاکٹر آئے جنہوں نے بیان کیا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ الہام نبایا تھا کہ وہ آپ کی دعاؤں کو جو آپ کے خاندان کے لئے ہوں گی قبول نہیں کرے گا۔اس بارے میں میری رہنمائی فرمائی جائے تاکہ ڈاکٹر صاحب کو جواب دیا جا سکے جس کے جواب میں حضرت میاں صاحب نے تحریر فرمایا کہ آپ کا خط ملا۔جزاکم اللہ۔آپ کو اس غیر مبائع نے دھوکا دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام یہ تھا کہ اجیب کل دعائک الا فی شرکائک۔یعنی میں تیری ساری دعاؤں کو قبول کروں گا۔سوائے ایسی دعاؤں کے جو تو اپنے رشتہ داروں کے متعلق کرے۔جو تیرے خلاف اور مد مقابل ہیں۔پس آپ کو اس معاملہ میں اس غیر مبائع نے دھوکہ دیا ہے۔اولاد کے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ نے صاف طور پر لکھا ہے کہ وہ صالح ہوگی اور ترقی کرے گی۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور حافظ و ناصر رہے۔۲۳ السلام مکرم چوہدری مبارک علی صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ نے میسور (ہندوستان) سے اپنے خط مؤرخہ ۶۱-۲-۲۶ میں تحریر کیا کہ ان کی عمر ۳۷-۳۸ سال کے درمیان ہے اور چند ماہ سے بڑی شدت سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ چالیس سال کی عمر کی حد بالکل قریب نظر آرہی ہے۔جو عادت اور کمزوری اس عرصہ میں راسخ ہوگئی وہ اس کے بعد کہاں دُور ہو گی۔اس خط کے جواب میں