حیات بشیر — Page 351
351 -٢٣ ملا جلا رہتا تھا تو اس کا جنازہ پڑھا جا سکتا ہے۔دعا کرنے میں تو بہر حال کوئی حرج نہیں۔‘۲۰ مکرم محمد علی صاحب وانگ چینی نے لڑکی سے اپنے خط مؤرخہ ۶۱-۳-۲۷ میں اپنے والد حاجی جلال الدین صاحب وانگ کی وفات کی اطلاع دی اور دعا کے لئے درخواست کی جس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ -۲۴ آپ کا خط محررہ موصول ہوا۔آپ کے والد صاحب کی وفات کا بہت صدمہ ہوا۔اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے اور آپ سب کا حافظ وناصر ہو اور ہر قسم کی مشکلات اور تکالیف سے ، بچا کر رکھے۔میری نصیحت یہ ہے کہ آپ اس موقعہ پر صبر اور ہمت سے کام لیں۔قرآن میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مصیبت کے وقت صبر کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے اور ان کی مدد فرماتا ہے۔آپ بھی اگر صبر اور ہمت سے کام لیں گے اور خدا سے دعا کرتے ہوئے ضروری ظاہری تدابیر اختیار کریں گے تو انشاء اللہ آپ کو خدا کی نصرت حاصل ہوگی۔انسانی زندگی بہر حال محدود ہوتی ہے اور ہر شخص نے آگے پیچھے سفر اختیار کرنا ہے۔آپ مومنوں کی طرح بہادر بن کر اس صدمہ کو برداشت کریں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام مشکلوں کو اپنے فضل سے دور فرمائے اور آپ کے لئے سہولت کا رستہ کھول دے۔آمین۔مجھے امید ہے کہ آپ اپنے دل کو مضبوط کر کے خدا پر بھروسہ رکھیں گے اور جو ظاہری تدبیریں آپ کے لئے ممکن ہیں۔ان کی طرف سے کبھی غافل نہیں ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ وکرم کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنی جناب سے راحت اور برکت عطا کرے۔“ ۲۱؎ مکرم عبد الغفار خاں صاحب نے آسٹریلیا سے اپنے خط مؤرخہ ۶۱-۱-۱۸ میں لکھا کہ انہوں نے اپنے ایک دوست کی لڑکی کی شادی میں شامل ہونا ہے اور ساتھ ہی نکاح بھی پڑھانا ہے۔اس لئے انہیں نکاح کی رسم ادائیگی کا طریقہ اور شرائط اور دعائیں جو ضروری ہیں خط کے ذریعہ تحریر فرما دیں اور کیا انگریزی زبان میں بھی خطبہ نکاح دیا جا سکتا ہے؟ جس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ: آپ کا خط محرره ۶۱-۱-۱۸ موصول ہوا۔فکر کی ضرورت نہیں۔بے شک نکاح کے موقعہ پر بعض آیات کا پڑھنا مسنون ہے۔لیکن ضروری نہیں۔معذوری کی صورت میں