حیات بشیر — Page 346
346 +1- مکرم چوہدری مبارک علی صاحب راولپنڈی نے اپنے خط مؤرخہ ۵۹-۱۲-۱۲ میں دعوت ولیمہ کی فلاسفی کے متعلق دریافت کیا جس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ آپ کا خط ملا۔دعوت ولیمہ ایک مسنون دعوت ہے جو شادی کے بعد خاوند بیوی کی خلوت پر دی جاتی ہے۔اسلئے خلوت سے قبل دعوت مسنون دعوت ولیمہ نہیں سمجھی جاسکتی۔دعوت ولیمہ کی غرض خلوت کا اعلان ہے اور دوسرے ایک خوشی کی تقریب بھی -11 ہے۔محترمہ امت الرشید صاحبہ بنت بابو محمد امین صاحب مرحوم سیالکوٹ نے اپنے خط مؤرخہ ۱۶-۱۲-۵۹ میں دریافت کیا کہ ان کی نانی صاحبہ (جو جناب خلیفہ نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ آف جموں کی ہمشیرہ اور مولوی اللہ دتا صاحب مرحوم کی اہلیہ تھیں) ۴۹ ء میں فوت ہو کر سیالکوٹ میں امانتاً دفن ہیں اور ان کی والدہ کو فوت ہوئے بھی ساڑھے چار سال ہو چکے ہیں اور وہ بھی سیالکوٹ میں امانتاً دفن ہیں۔کیا اب ان کی نعشوں کو ربوہ لانے کے لئے قبریں اکھاڑی جائیں تو جائز ہے؟ اور پھر یہ بھی ڈر لگتا ہے کہ اگر صندوق خراب ہو چکے ہوں یا اندر کچھ بھی نہ ہو تو اس صورت میں کیا کیا جائے؟ اس چٹھی کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ -۱۲ آپ کا خط ملا۔عرصہ گذر جانے کے بعد بھی لاش ربوہ لائی جا سکتی ہے۔حضرت صاحب کے زمانہ میں تو ایک دفعہ ایک بزرگ کی ہڈیاں نکال کر لائی گئی تھیں۔اصل غرض ایک جگہ دفن کرنے سے دعا کی تحریک اور فوت ہونے والوں کے ساتھ عقیدت ہے۔آپ بے شک لا سکتی ہیں۔لیکن اگر صندوق خراب نکلے تو نیا صندوق بنا لیں۔لیکن کیوں نہ ایسا کریں کہ جہاں اتنا عرصہ گذر چکا ہے کچھ عرصہ اور انتظار کر کے ہوتی قادیان کا راستہ کھلنے پر وہاں لے جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔“ محترم چوہدری غلام قادر صاحب نمبردار اوکاڑہ ضلع منٹگمری نے اپنے خط مورخہ ۱۴-۳-۶۰ میں اپنی بہو کو طلاق دیے جانے کے متعلق تحریر کیا جسکے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا کہ ” آپ کی خدمت میں دو کاغذات ارسال کر رہا ہوں۔کیا آپ اس معاملہ میں اپنی بہو یا سابقہ بہو کی کوئی مدد فرما سکتے ہیں۔مجھے اندرونی حالات کا علم نہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کو ابغض الحلال قرار دیا ہے اور علیحدگی کی صورت میں حکم دیا