حیات بشیر

by Other Authors

Page 345 of 568

حیات بشیر — Page 345

وو -^ - " بسم اللہ الرحمن الرحیم 345 نحمده ونصلى على رسوله الكريم لاہور ۵۴-۱۰-۲۰ مکرمی محترمی مولوی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته آپ کا خط ملا آپ کے مخلصانہ جذبات اور دعاؤں کا شکریہ جزاکم اللہ خیرا۔مجھے منشی محمد صادق صاحب کا خط اپنی چوٹ کے متعلق آیا تھا۔اللہ تعالیٰ جلد شفا عطا کرے۔یوپی کی جماعتوں کی حالت کی خرابی کا علم پا کر افسوس ہوا۔یہ ایک عام گراوٹ کا وقت ہے مگر مایوس نہیں ہونا چاہیے۔قبض وبسط کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔آپ اپنی طرف سے اصلاح حالات کی کوشش کرتے رہیں۔اس طرح کم از کم آپ خدا تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوں گے۔وہاں کے دوستوں کی مالی حالت کا خراب ہونا ایک حد تک طبعی ہے مگر امید ہے آہستہ آہستہ بہتری کی صورت پیدا ہو جائے گی۔اپنے ماحول میں تعلقات بڑہانے چاہئیں اور افسروں سے بھی تعلقات رکھیں۔اللہ تعالیٰ حافظ و ناصر ہو۔لکھنو میں بعض احمدیوں کا کسی ایک فرد کی مخالفت میں جمعہ کی نماز میں شرکت ترک کر دینا نہایت معیوب بلکہ گناہ کی بات ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کا اور جماعت کا حافظ و ناصر ہو۔فقط والسلام مرزا بشیر احمد 1 مکرم چوہدری رشید الدین صاحب مربی جماعت احمدیہ مقیم کوئٹہ نے مورخہ ۱۹ اکتوبر ۵۹ء کو آپ کی خدمت میں چٹھی لکھ کر دریافت کیا کہ آج کل کئی لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ انسان کے چاند پر پہنچنے کے امکانات دن بدن روشن ہو رہے ہیں اور قرآن مجید بھی سورۃ رحمن میں زمین کے قریبی ستاروں تک پہنچنے کے امکان کو تسلیم کرتا ہے تو اس صورت میں قرآن مجید کی آیت فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون کی کیا تشریح ہو گی؟ حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے اس چٹھی کے جواب میں تحریر فرمایا کہ : آپ کا خط ملا۔اول تو ہنوز دلی دور است۔جب لوگ چاند پر پہنچ جائیں گے اس وقت خدا اس سوال کا جواب پھر سمجھا دے گا۔دوسرے یہ خیال بھی بالکل درست ہے کہ چاند دراصل زمین کا حصہ ہے اور اسکے ارد گرد طواف کرتا رہتا ہے۔“ کے