حیات بشیر

by Other Authors

Page 342 of 568

حیات بشیر — Page 342

342 -۴ ♡ - سفر رہنے کے ذریعہ ہی تیار ہوئے تھے۔خاکسار مرزا بشیر احمد ا۶ -۱۱-۱۱۶ رسالہ "الفرقان“ کے ”حضرت میر محمد اسحاق نمبر کے متعلق تحریر فرمایا: ”رسالہ الفرقان کا ایک خاص نمبر نکلا ہے جس میں ہمارے چھوٹے ماموں حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کے حالات درج ہیں۔اور مختلف اصحاب نے ان کے ذکر خیر کے رنگ میں ان کے بعض دلکش اوصاف اور حالات تحریر کئے ہیں۔الفرقان کا یہ نمبر خدا کے فضل سے بہت ہی مبارک ہے جس سے نہ صرف حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کی یاد تازہ ہوتی ہے بلکہ ان کی بے شمار نیکیوں اور خوبیوں کی وجہ سے سے نیکی کی بھی غیر معمولی تحریک پیدا ہوتی ہے۔حقیقتاً "الفرقان" کا یہ نمبر بہت ہی قابل قدر ہے اور جماعت میں اس کی جتنی بھی اشاعت ہو کم ہے۔میں اس قابل قدر خدمت پر محترم مولوی ابو العطاء صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں۔جزاہ اللہ فی الدنیا والآخرۃ۔خاکسار مرزا بشیر احمد ر بوه ۶۱-۱۱-۲۴ ذیل کے چند خطوط ہجرت کے بعد حضرت میاں صاحب نے محترم مولوی بشیر احمد صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ مقیم دہلی حال امیر جماعت احمدیہ کلکتہ کو لکھے تھے : بسم اللہ الرحمن الرحیم رفتن باغ ۴۸-۰۸-۲۴ مکرمی محترمی مولوی صاحب محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط محرره ۴۸-۰۸-۱۶ موصول ہوا۔اور اس کے ساتھ تار کی نقل بھی تھی۔آپ کا خواب خدا کے فضل سے مبارک ہے۔ایک بشیر نے خواب دیکھی اور دوسرے بشیر کو اپنے شہر اور مکان میں آتے دیکھا۔پھر مکان میں سے بھی اوپر کی منزل میں جاتے دیکھا اور پھر یہ نظارہ بھی دیکھا کہ اوپر کے منزل کے ایک کمرہ کی جگہ دو کمرے ہو گئے۔یہ سب نظارے مبارک ہیں اور اس میں جماعت کے لئے بشارت اور نصرت الہی اور توسیع کی طرف اشارہ ہے۔اللہ تعالیٰ اسے پورا فرمادے۔قادیان سے ہجرت کر کے لاہور آنے پر حضرت خلیفہ اُسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز چند سال لاہور کی مشہور کوٹھی رتن باغ میں قیام پذیر رہے ہیں۔مگر حضور کے مستقل طور پر ربوہ تشریف لے جانے پر حکومت مغربی پاکستان نے میو ہسپتال لاہور کی توسیع کے پیش نظر اس کوٹھی کو ہسپتال میں شامل کر لیا ہے۔(مؤلف)