حیات بشیر — Page 343
-Y 343 آپ اس وقت انڈین یونین (بھارت۔ناقل ) میں رہتے ہیں اور اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے ماتحت آپ کو انڈین یونین کا ہر طرح وفادار اور پر امن رہنا چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ آپ کا یہی مسلک ہو گا تبلیغ ضرور کریں اور اسلام اور احمدیت کی پر امن تعلیم کو پر امن طریق پر لوگوں تک پہنچائیں۔یہ وہ چیز ہے جس میں کسی حکومت کا قانون روک نہیں بنتا۔مگر جادلهم بالتي هي احسن کے اصول کے ماتحت حکمت اور موعظہ حسنہ سے کام لیں کیونکہ آجکل کے غیر معمولی حالات میں بعض جلد باز افسر بلاوجہ بدظنی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔قادیان کے ساتھ بھی تعلق رکھیں اور امیر جماعت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل دار مسیح قادیان کو خط لکھتے رہا کریں۔آپ دونوں ایک ہی حکومت کے باشندے ہیں۔دہلی کے سب دوستوں کو سلام مسنون پہنچا دیں اور اگر ممکن ہو تو مجھے مطلع فرمائیں کہ دہلی میں اس وقت کتنے احمدی دوست ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔فقط والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ۴۸-۰۸-۲۴ ۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدة وفصلی علی رسولہ الکریم وعلى عبده المسيح الموعود رتن باغ لاہور ۵۰-۳-۱۲ مکرمی محترمی مولوی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط موصول ہوا۔ڈاکٹر شنکر داس صاحب مہرہ کے جذبات قابل قدر ہیں۔گو ان کے خیالات میں بعض باتیں قابل اصلاح بھی ہیں۔لیکن یہ بات چنداں قابل اعتراض نہیں کیونکہ جو شخص اسلامی تعلیمات کی تفصیل سے آگاہ نہ ہو وہ بعض باتوں میں غلطی کر جاتا ہے لیکن اگر فیت بخیر ہو تو توجہ دلانے پر اصلاح بھی کر لیتا ہے۔میرے خیال میں آپ انہیں ”اسلامی اصول کی فلاسفی کا ایک نسخہ دے دیں اور جب وہ اسے لیں تو اس کے بعد احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا ایک نسخہ دے دیں۔انشاء اللہ مفید رہے گا۔اور اُن کے ساتھ تعلقات بھی رکھیں۔میں ان کے مضمون کو ایڈیٹر صاحب ”الرحمت“ کے پاس بھجوا رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور حافظ و ناصر پڑھ