حیات بشیر — Page 341
341 جائے۔اسکے ساتھ ہی الوہیت مسیح اور تثلیث اور کفارہ کا بھی خاتمہ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے یہ ایک ایسا زبردست حربہ دیا ہے کہ جس کے سامنے مسیحیت بالکل بے دست و پا ہے۔پس اس پر خاص زور دیا جائے۔علاوہ ازیں جن قرآنی آیات سے مسیحی لوگ مسیح کی افضلیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی حقیقی تشریح واضح کی جائے۔مثلاً مسیح کا بے باپ ہونا۔مسیح کا کلمہ اللہ ہونا۔مسیح کا پرندے پیدا کرنا اور مسیح کا مردے زندہ کرنا وغیرہ۔یہ سادہ سے مسائل ہیں۔مگر مسیحی لوگوں نے ان سے نادان مسلمانوں کے سامنے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔آپ کے نصاب میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے رسالوں اور مولوی ابو العطاء صاحب کے رسالہ کا ذکر نہیں۔یہ دونوں ٹھوس رسالے ہیں جن کے مقابل پر مسیحی متاد تڑپتے ہوئے رہ جاتے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ اپنے طالب علموں کے دلوں سے میسحیت اور دجالیت اور مغربیت کا رعب مٹا دیں اور انہیں اسلام کے حق میں اور مسیحیت کے خلاف ایک سیف عریاں بنا دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ۶۳-۰۵-۲۷ مکرم پرنسپل صاحب جامعہ احمد یہ ربوہ آجکل ملک میں پھر مسیحی مشنریوں نے شور شروع کر رکھا ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ بالکل دب گئے تھے۔اس کے لئے بعض اور تدبیریں بھی سوچی جا رہی ہیں۔مگر آپ بھی جامعہ میں طلبہ پر زیادہ زور دیں کہ وہ مسیحیت کے مطالعہ کی طرف زیادہ توجہ دیں اور ان کے مقابلہ کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں میسحیت کی موجودہ تعلیم محض تار عنکبوت ہے مگر عنکبوت کے جالے کو توڑنے کے لئے بالآخر ہاتھ ہلانا پڑتا ہے۔آپ کا ہر مبلغ کا سرصلیب ہونا چاہیے۔خدا کے فضل سے لٹریچر کی کمی نہیں۔۲ نیز جب کوئی خاص مبلغ باہر دورے پر جایا کریں تو آپ اُن کے ساتھ باری باری بعض سینئر طلبہ کو ٹرینگ کے خیال سے بھجوا دیا کریں۔شروع زمانہ میں اچھے مبلغ حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے ساتھ دوروں پر ہم -٣