حیات بشیر

by Other Authors

Page 335 of 568

حیات بشیر — Page 335

335 نا اہلیت کو دیکھتے ہوئے سخت خوف آیا کہ کہیں ادائے فرض میں کوتاہی جماعت کے نقصان کا باعث نہ ہو۔خود بھی بہت دعا کی اور حضرت میاں صاحب کی خدمت میں بھی دعا کی درخواست کا خط نیروبی سے لکھا۔میرے دارالسلام پہنچتے ہی آپ کا جون کا خط موصول ہوا۔فرمایا : آپ کا محرره ۶۳-۵-۳۱ موصول ہوا۔تبادلہ مبارک ہو۔مبلغ سپاہی ہوتا ہے۔جہاں کا حکم ہو وہاں شوق اور جذبہ کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔اس میں برکت ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔اس زمانہ میں افریقہ میں صحیح 666 رنگ کی تبلیغ بڑے ثواب کا موجب ہے۔کتنے مختصر الفاظ ہیں مگر ان میں دعا بھی ہے اور نصیحت بھی، رہنمائی بھی ہے اور حوصلہ افزائی بھی۔ایسا ہی غالباً ۱۹۵۱ء کے آخر یا ۵۲ ء کے شروع کی بات ہے۔خاکسار مرکز میں نشرو اشاعت کے صیغہ کا انچارج تھا۔خاکسار کا تبادلہ شیخوپورہ میں بحیثیت انچارج مربی کر دیا گیا۔اور ان ایام میں ہوا جبکہ بظاہر مجھے ربوہ میں رہنے سے بہت فائدہ کی توقع تھی۔خاکسار آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔حالات عرض کئے۔فرمایا: آپ فوراً حکم کی تعمیل کریں۔میں شیخو پورہ کے امیر چوہدری محمد انورحسین صاحب کو اچھی طرح سے جانتا ہوں۔وہ بہت ہی اچھے آدمی ہیں۔ان کے پاس آپ کا جانا بہت مبارک ثابت ہوگا۔“ میں جب شیخوپورہ میں آیا تو جو سلوک محترم چوہدری محمد انور حسین صاحب نے میرے ساتھ کیا اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت میاں صاحب کے الفاظ ایک پیشگوئی کارنگ اپنے اندر رکھتے تھے۔محترم چوہدری صاحب کے پاس آکر مجھے اسقدر فائدہ پہنچا کہ میرے وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا۔میرے اس بیان کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ ہر ممکن کوشش فرماتے تھے کہ ماتحت عملہ اپنے افسروں کی حتی الامکان اطاعت کرے اور اگر بظاہر نقصان کا خدشہ بھی ہو تو ثواب سمجھ کر یہ کام کرے۔اس میں علاوہ اطاعت کے ثواب کے ظاہری لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ برکات کا باب کھول دے گا۔نظام سلسلہ پر نکتہ چینی کی ممانعت نظام سلسلہ پر نکتہ چینی کو آپ ہر گز برداشت نہیں کرتے تھے۔محترم سید داؤد احمد صاحب