حیات بشیر — Page 336
336 پرنسپل جامعہ احمدیہ کا بیان ہے کہ: ۱۹۴۷ء کی بات ہے ہجرت سے چند ہفتے قبل ایک دن میاں عزیز احمد صاحب کے ہاں تشریف لائے۔اتفاق سے گھر پر میں اکیلا ہی تھا۔فرمانے لگے۔بہشتی مقبرہ جانا چاہتا ہوں۔میں نے عرض کیا۔چلیں میں ساتھ چلتا ہوں۔چنانچہ ہم دونوں بہشتی مقبرہ گئے۔جاتے ہوئے میں نے بعض انتظامی نقائص کا ذکر کیا تو فرمانے لگے۔آدمی کو سوچ کر بات کرنی چاہیے۔اصل کام انتظام کا امام کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور اسی کی ہدایات کے ماتحت تدابیر اختیار کی جاتی ہیں جو بعض دفعہ بظاہر غلط نظر آتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد امام کو حاصل ہوتی ہے اور وہی درست ہوتا ہے اور انجام کے لحاظ سے وہی بہتر ہوتا ہے جو امام فیصلہ کرتا ہے۔باقی لوگوں کو چاہیے کہ زور اس کی اطاعت پر دیں نہ کہ خود اپنی طرف سے تجویزیں تیار کریں۔ظاہر ہے کہ امام کی اطاعت اور اس کے فیصلوں کی برکت کا خیال جتنا حضرت میاں صاحب کے دل میں تھا اور کسی کے دل میں نہیں ہو سکتا۔“ ۲۰ اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ نظام سلسلہ پر نکتہ چینی کرنا کوئی مستحسن فعل نہیں۔ہر احمدی کو چاہیے کہ خواہ اسے کوئی بات سمجھ آئے یا نہ آئے نکتہ چینی سے پر ہیز کرے۔بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ اگر امام وقت کی طرف سے کوئی نئی تحریک جماعت میں کی جائے تو کمزور لوگ مرکز کے نمائندوں کے سامنے فوراً یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ پہلے تھوڑی تحریکیں تھیں جو یہ ایک اور کر دی۔اگر پہلی تحریکوں میں ہی لوگ باقاعدگی کے ساتھ با شرح چندہ ادا کریں تو کسی اور تحریک کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔مگر ایسے لوگ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ یہ نئی تحریک سلسلہ کے کارکنوں کی طرف سے نہیں امام وقت کی طرف سے ہے اور امام وقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہوتی ہے۔وہ کوئی ایسی تحریک نہیں کرتا جس کے پیچھے الہی منشاء کام نہ کر رہا ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ایسی تحریک کو ضرور کامیاب کرتا ہے۔مگر نکتہ چین لوگ نکتہ چینی کر کے ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں مومن انسان کا کام ہے کہ امام وقت کی طرف سے کی گئی ہر تحریک پر فوراً لبیک کہے۔اگر اسے توفیق ہے تو اپنی توفیق کے مطابق حصہ لے اور اگر توفیق نہیں تو اس تحریک کی کامیابی کے لئے دعا کرے۔خواہ مخواہ نکتہ چینی کر کے اپنے اعمال نامہ کو داغدار نہ کر لے۔اس واقعہ میں بیرونی جماعتوں کے افراد کے لئے بھی ایک سبق ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ