حیات بشیر

by Other Authors

Page 330 of 568

حیات بشیر — Page 330

330 سارے کاموں میں انتہائی محنت اور عرقریزی سے کام لینا پڑتا تھا۔محترم مولوی عبد الرحمن صاحب انور پرائیویٹ سیکرٹری لکھتے ہیں: قادیان میں الیکشن کا کام حضرت میاں صاحب ہی کی رہنمائی میں سرانجام پاتا۔جب ایک مرتبہ اس ضمن میں آدھی رات کے قریب خاکسار باہر کے دیہات سے قادیان گیا تو دیکھا کہ آپ چار پائی پر لیٹے ہیں۔سر پر سرخ رومال سے پٹی باندھی ہوئی ہے۔لیمپ سرہانے رکھا ہے۔نزلہ سے بُرا حال ہے لیکن پھر بھی بدستور کام جاری ہے۔کارکنوں کو پاس بٹھایا ہوا ہے۔ان کی ضروریات کی طرف خاص توجہ اور ان کی سہولت کے لئے ہدایات دیتے ہیں اور خود اپنے وجود کو فراموش کیا ہوا ہے۔“ ۱۸ پھر آپ لکھتے ہیں کہ تھوڑے عرصہ کی بات ہے آپ کی طبیعت زیادہ خراب تھی۔شوریٰ کی سفارشات جو آپ کی صدارت میں پیش ہوئی تھیں اُن کو آخری فیصلہ کے لئے بحضور ایدہ اللہ بنصرہ پیش کرنا تھا۔خاکسار دو مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔طبیعت نہایت کمزور تھی۔دو دن باوجود کوشش کے ملاحظہ نہ فرما سکے۔آپ کی طبیعت پر خاص اثر تھا کہ سلسلہ کے کام کو دو دن دیر ہو گئی۔بالآخر فرمایا کہ کل آنا لیکن ٹھیک ساڑھے دس بجے۔خاکسار وقت سے چند منٹ پہلے آپ کی کوٹھی ”البشری“ پہنچا۔آپ کے دفتر کے کارکن سے حالات کا علم حاصل کیا۔معلوم ہوا کہ طبیعت خراب ہی ہے لیکن اس کے باوجود ڈاک ساڑھے نو بجے ہی دیکھی ہے اور باقی کو اگلے دن پر ملتوی کیا ہے۔مجھے خیال گذرا کہ شاید آج بھی موقعہ نہ مل سکے۔اچانک ایک اور دوست آئے اور مجھ سے میرے کام کا اندازہ پوچھا۔میں نے کہا۔غالباً آدھ گھنٹے کا کام ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت میاں صاحب سے صرف ایک منٹ کا کام ہے۔اگر اجازت ہو تو پہلے میں ہو آؤں۔میں نے مان لیا۔لیکن انہوں نے دس منٹ لگا دیے۔بالآخر خاکسار حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ آج آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے دس منٹ ضائع کر دیے اور فرمایا کہ میں نے سلسلہ کے اس کام کیلئے اپنے دفتر کی ڈاک سے بھی وقت بچایا تھا اور پون گھنٹہ آرام کے لئے رکھا تھا کہ تازہ دم ہو کر یہ کام کر سکوں۔آپ نے اپنی مرضی سے اپنا وقت ان کو دے دیا