حیات بشیر — Page 329
329 میں زندگی گزاریں گے اور کبھی کسی معاوضہ یا ترقی یا حق کا مطالبہ نہیں کریں گے اور میرے لئے انتہائی خوشی اور درد صاحب کے خاندان کے لئے انتہائی فخر کا مقام ہے کہ درد صاحب نے اس عہد کو کامل وفاداری سے نبھایا۔اور منهم من قضى نحبه - کے مقام پر فائز ہو گئے اور میرا انجام خدا کو معلوم ہے۔گو میں اپنی کمزوریوں کے باوجود خدا کی رحمت کا امید وار ہوں۔“ جب شروع شروع میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے نظارتیں قائم کیں تو ☆ جس اخلاص اور للہیت کے ساتھ آپ نے کام کیا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جب ابتداء ۱۹۲۱ ء میں نظارتیں بنیں تو ابتدائی ناظروں میں چوہدری فتح محمد صاحب سیال مرحوم اور مولوی عبد الرحیم صاحب درد مرحوم اور سید ولی اللہ شاہ صاحب اور یہ خاکسار شامل تھے اور میری اور درد صاحب مرحوم کی عمر اس وقت ستائیس اٹھائیس سال سے زیادہ نہیں تھی۔مگر ہم نے خدا کے فضل سے حضور کی قیادت میں نظارتوں کے کام کو اس طرح سنبھالا کہ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں (ولا فخر ) کہ اس وقت کی نظارت آج کل کی نظارت سے بحیثیت مجموعی زیادہ مضبوط اور زیادہ چوکس اور زیادہ متحد تھی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ مشاورت میں ایک ناظر کی رپورٹ پیش ہونے پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بڑی خوشی کے ساتھ فرمایا تھا کہ یہ رپورٹ ایسی ہے کہ بڑی بڑی حکومتوں کے تجربہ کار وزیروں کی رپورٹوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتی 66 ہے۔کلی حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو جب سے اللہ تعالیٰ نے خلافت کا منصب عطا کیا۔اس وقت سے لے کر اب تک جس قدر متفرق مگر اہم کام پیش آئے، قریباً قریباً ان سب کے انچارج حضور حضرت میاں صاحب کو ہی مقرر فرماتے رہے۔جیسے الیکشن کا کام ہے۔اہم مسودات کی نظر ثانی ہے۔حکام کے ساتھ خط و کتابت کا کام ہے۔اپنے خاندان کی جائیداد کے بھی آپ ہی انچارج رہے اور یہ کام بھی نہایت اہم اور نازک تھا ان سب کا موں کے علاوہ تصنیفات کا کام بہت ہی اہمیت رکھتا تھا اور آخری سالوں میں تو شوریٰ کے اجلاسات بھی آپ ہی کی صدارت میں ہوتے رہے۔جلسہ سالانہ میں بھی آپ ذکر حبیب کے موضوع پر اہم تقاریر فرماتے رہے اور ان حضرت میاں صاحب نے بعد میں تصحیح فرما دی تھی۔نظارتوں کا قیام ۲۱ ء میں نہیں 1919 ء میں ہوا ہے۔