حیات بشیر — Page 331
331 اور افسوس کے رنگ میں فرمایا۔اچھا! جو ہونا تھا ہو گیا۔اب پیش کرو۔پھر لیٹے لیٹے پوری توجہ سے آہستہ آہستہ سارا مسودہ سنا اور اصلاحات فرمائیں۔“ 19 حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کی جن مصروفیات کا اوپر ذکر کیا گیا ہے ان کے علاوہ بعض ایسے کام بھی آپ کو کرنا پڑتے تھے جن کو لوگ بظاہر معمولی سمجھتے ہیں لیکن ان میں وقت بھی کافی صرف ہوتا تھا۔اور جسم میں کوفت اور دماغ میں تکان بھی خاصی ہو جایا کرتی تھی اور وہ کام یہ -1 ملاقاتیں جو مساجد میں بھی ہوا کرتی تھیں اور کوٹھی پر بھی۔ملاقاتوں کے بارہ میں تو مجھے خود کافی تجربہ ہے اور ملاقات کا ایک واقعہ تو میں ”حیات نور“ کے عرض حال میں بھی درج کر چکا ہوں کہ: -٣ ا " جس وقت میں نے آپ کی کوٹھی پر حاضر ہو کر اندر اطلاع بھجوائی تو بیماری کی وجہ سے آپ کی طبیعت نہایت ہی کمزور تھی اور ضعف کا یہ حال تھا کہ دیوار کے ساتھ سہارا لے کر نہایت ہی تکلیف کے ساتھ برآمدہ میں تشریف لائے مگر چہرہ ہشاش بشاش تھا۔دو آدمیوں کے سہارے سے آپ کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔۔خط و کتابت۔یعنی باہر سے آمدہ ڈاک کا مطالعہ کرنا اور ان کے جوابات لکھوانا اور لکھنا۔جنازوں کا پڑھانا۔کیونکہ حضرت اقدس کی بیماری کے بعد ہر شخص کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ آپ اس کے عزیز کا جنازہ پڑھائیں۔اور آپ لوگوں کو مایوس نہیں کرتے تھے۔بیماری کے ایام میں بھی آپ یہ فریضہ ادا فرماتے رہے۔ربوہ کے لوگ یہ بھی کوشش کرتے تھے کہ بیاہ شادی میں بھی آپ انکے شریک ہوں۔جب تک صحت اجازت دیتی رہی آپ حتی المقدور یہ کام کرتے رہے۔لیکن بیماری کے ایام میں تحریری طور پر معذرت فرماتے رہے اور اس کام پر بھی خاص توجہ دینا پڑتی تھی تاکہ کسی کی پیشکنی نہ ہو۔- بلکہ غرض حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ نے ہوش سنبھالتے ہی مجاہدین کی صف اول میں کھڑے ہو کر خدمت دین کا فرض ادا کرنا شروع کر دیا اور تادم واپسیں اس پر کار بند رہے۔کام سنبھالنے کے بعد لحظه بلحظہ آپ کا جوش عمل بڑھتا ہی چلا گیا۔آپ کی خدمات بحیثیت صدر نگران بورڈ اور آخری چند سالوں میں تو کام کا اس قدر آپ پر بوجھ تھا کہ صحت بھی جواب دے