حیات بشیر — Page 287
287 قومی اور ملی مفاد کا تقدم قومی اور ملی مفاد کا احساس آپ کے اندر ایسا پایا جاتا تھا کہ تقسیم ملک سے قبل ۱۹۴۶ء ہے۔مسلمان میں ایک سکھ لیڈر سردار وریام سنگھ صاحب نے آپ سے کہا کہ اب ملک بٹ رہا ہے اور آپ کی جماعت کی پوزیشن بہت نازک آپ کو اپنانے کے لئے تیار نہیں۔پس آپ ان کی وجہ سے سکھوں اور ہندوؤں سے نہ بگاڑیں۔میں آپ کی ہمدردی کے خیال سے کہتا ہوں کہ آپ مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے ساتھ سمجھوتہ کر لیں ہم آپ کی جماعت کو قادیان اور اس کے ماحول میں ایک قسم کی نیم آزاد حکومت دینے کو تیار ہیں۔“ آپ نے اس پیشکش کا جو لطیف جواب دیا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔فرمایا: سردار صاحب! آپ ہمیں معاف فرما ئیں۔ہم دوسرے مسلمانوں کے ساتھ غداری کر کے آپ کے ساتھ جوڑ نہیں ملا سکتے۔پس میرا مشورہ آپ کو یہ ہے کہ آپ اس ناکام کوشش پر مزید اصرار نہ کریں۔‘ ۸۹۔شدید محنت کی عادت جماعتی کاموں کے سلسلہ میں آپ کی مصروفیت اور شدید محنت کا یہ حال تھا کہ ہنگامی کاموں میں آپ نہ دن دیکھتے تھے نہ رات۔اپنی صحت اور آرام کو بالکل نظر انداز کر کے کام میں مشغول ہو جاتے تھے۔حتیٰ کہ کھانے کی بھی پروا نہیں کرتے تھے۔جب خادم بار بار آ کر اطلاع دیتا کہ کھانا تیار ہے تو فرماتے: ”ہاں بھئی! میں نے سن لیا ہے۔میں فارغ ہو کر آ جاؤں گا۔آپ کھانا کھا لیں“ محترم سید مختار احمد صاحب ہاشمی ہیڈ کلرک دفتر خدمت درویشان کا بیان ہے کہ قافلہ قادیان کے انتظام ویزا کے سلسلہ میں قریباً روزانہ کراچی سے پاسپورٹوں کی اطلاع رات کو آیا کرتی تھی کہ اخبار الفضل کی شائع شدہ فہرست کے فلاں فلاں نمبر کے پاسپورٹ پہنچ گئے ہیں اور اس غرض کے لئے بعض اوقات رات بارہ بارہ بجے تک انتظار فرماتے۔اگر میں اس وقت وہاں موجود نہ ہوتا تو اسی وقت فون کی اطلاع نوٹ کر کے مجھے بھجوا دیتے اور کبھی کبھی دفتر کے کارکنان میں جوش عمل پیدا کرنے کے لئے فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو بھئی! میں ستر سال کا بوڑھا آدمی اتنے