حیات بشیر

by Other Authors

Page 288 of 568

حیات بشیر — Page 288

288 گھنٹے روزانہ کام کر سکتا ہوں تو آپ نوجوان اس قدر کام کیوں نہیں کر سکتے ؟“ آپ کے دینی کاموں میں انہاک کا ذکر کرتے ہوئے محترم کیپٹن ڈاکٹر محمد رمضان صاحب پینشنر ربوہ فرماتے ہیں: ”جب میں تندرست تھا اور ربوہ کے نور ہسپتال میں کام کرتا تھا تو آنمحترم نے حضرت اُمّم مظفر احمد صاحبہ کے علاج کے سلسلہ میں مجھے ایک دن یاد فرمایا جب میں اجازت لے کر آپ کے دفتر میں داخل ہوا تو عجیب ماجرا دیکھا۔حضرت میاں صاحب نے آستینیں چڑھائی ہوئی تھیں۔غالباً سر اور پاؤں ننگے تھے اور آپ خطوط یا دفتری تحریریں پڑھنے اور ان پر غور کرنے میں ایسے محو تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ تمام جہان کا بوجھ آپ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے اور آپ کا رواں رواں اس عظیم الشان بوجھ سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کے لئے حرکت میں آیا ہوا ہے۔دل، دماغ اور چہرہ وغیرہ ایک دوسرے سے ایسا تعاون کر رہے ہیں اور اس کا نمایاں اظہار آپ کے جسم کے ذرہ ذرہ سے اس شدت سے ہو رہا ہے جیسے آپ خدا تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں۔غالباً یہ نظارہ میری زندگی میں پہلا تھا یعنی اپنی پوری شان کے ساتھ۔پھر آپ کا مقدس وجود اس وقت ایمانی تاثرات سے اس طرح بھر پور تھا گویا ایک رُوحانی مقناطیس تھا جو ہر ایک پر اپنا اثر ڈال رہا تھا۔میں کچھ دیر تک کھڑا محو نظارہ رہا کہ حضرت میاں صاحب نے سر اُٹھایا اور مجھ سے گویا ہوئے۔۔حضرت میاں صاحب کی زندگی کے اس قسم کے واقعات میں یقیناً موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بیش بہا اسباق ہیں۔ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے روزمرہ کے مشاغل میں خدمت دین کا فریضہ ادا کر کے اپنے آپ کو اس رُوحانی ورثہ کا حقدار ثابت کر رہے ہیں یا اسے نظر انداز کر کے دنیوی تدابیر اور مشاغل کے پیچھے پڑ کر اپنے اوقات گرامی کو ضائع کر رہے ہیں؟ بزرگو! عزیز و اور دوستو! یہ وقت گذر جائے گا اور پھر کبھی واپس نہیں آئے گا یہ موقعہ ہے کہ خدمت دین کا فریضہ ادا کر کے کچھ سرمایہ حیات جمع کر لو اور اس امر میں رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اپنے بزرگان سلف کی زندگیوں کے واقعات اور کارناموں کا بار بار مطالعہ کرو اور ان سبق حاصل کرنے کی کوشش کرو۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس جو خود بھی دینی کاموں میں