حیات بشیر

by Other Authors

Page 281 of 568

حیات بشیر — Page 281

281 وہی شخص مراد نہیں جو کسی دینی لڑائی میں مارا جائے بلکہ ہر وہ شخص بھی شہیدوں میں داخل ہے جو (۱) خدمت دین میں زندگی گزارتا ہوا فوت ہو۔(۲)اور اس کا نمونہ بھی ایسا ہو کہ دوسروں کے لئے ترغیب و تحریص اور اقوام فی الدین کا موجب بن جائے۔مجھے حافظ شیرازی کا یہ شعر بہت پسند ہے کہ ؎ ہر گز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق مثبت است بر جریده عالم دوام پس میں جماعت کے نوجوانوں کو بڑے دردِ دل کے ساتھ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ مرنے والوں کی جگہ لینے کے لئے تیاری کریں اور اپنے دل میں ایسا عشق اور بلکہ خدمت دین کا ایسا ولولہ پیدا کریں کہ نہ صرف جماعت میں کوئی خلا نہ پیدا ہو ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے طفیل جماعت کی آخرت اس کی اولیٰ سے بھی بہتر ہو۔یقیناً اگر ہمارے نوجوان ہمت کریں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس مقصد کا حصول ہر گز بعید نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے جو حضور نے ان شاندار لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بارہا خبر دی ہے۔کہ میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم ومعرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ وہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل کی روشنی سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا اور پھیلے گا یہاں تک کہ د, زمین پر محیط ہو جائے گا۔“ ”خدا کرے کہ ہم اور ہماری اولادیں اس عظیم الشان عمارت سے حصہ پائیں اور اسلام اور احمدیت کا جھنڈا دنیا میں بلند سے بلند تر ہوتا چلا جائے بکوشیداے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا بہار و رونق اندر روضه ملت شود پیدا ۸۳ اگر اس کتاب کا حجم بڑھ جانے کا خوف نہ ہوتا تو میں اور دوستوں اور بزرگوں کی وفات پر بھی حضرت میاں صاحب کے مضامین درج کرتا لیکن سردست انہی دو مضامین پر اکتفا کرتا ہوں۔