حیات بشیر — Page 276
276 حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ کی وفات پر اُن کی صاحبزادی محترمہ امتہ الرحیم صاحبہ کو عراق کے پتہ پر جو چٹھی آپ نے لکھی وہ درج ذیل ہے: مکرمه و محترمه السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام بڑے افسوس کے ساتھ آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ کے قدیم اور مخلص صحابی اور آپ کے والد صاحب محترم حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی وفات پا گئے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔وفات پاکستان میں ہوئی اور نماز جنازہ ربوہ اور قادیان دو جگہ ہوئی اور اپنی دلی خواہش کے مطابق دفن مقبرہ بہشتی قادیان میں ہوئے۔اللہ تعالیٰ سب پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے اور حضرت بھائی صاحب کی نیکیوں کا ورثہ عطا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابی فوت ہوتے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت پر رحم فرمائے۔بچوں کو پیار تفصیل آپ کو الفضل سے معلوم ہو جائے گی۔بہتر ہو گا کہ اب آپ اپنی والدہ صاحبہ اور بھائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کریں۔زندگی کا اعتبار نہیں مرزا د صاحب کو سلام‘ ۸۰ اس مختصر سی چٹھی میں آپ نے تعزیت کا فرض ادا کرنے کے بعد موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے محترمہ کو اپنی والدہ اور بھائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی بھی نصیحت فرما دی ہے۔یہ چٹھیاں تو وہ ہیں جو آپ نے جماعت کے مخلصین کی وفات پر ان کے عزیز و اقارب کو لکھیں۔اب میں چند وہ چٹھیاں درج کرتا ہوں جو آپ نے اپنے عزیزوں کی وفات پر تعزیت کرنے والوں کو لکھیں۔حضرت نواب میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے داماد اور آپ کے بہنوئی تھے۔اُن کی وفات (جو ۱۸ ستمبر 1 ء کو ہوئی تھی) پر تعزیت کرنے والوں کو جو جوابی چٹھی آپ نے املا کروائی وہ درج ذیل ہے: مکرمی و محترمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته آپ کا خط محرره۔۔موصول ہوا۔آپ نے اخویم مکرم میاں محمد عبد اللہ