حیات بشیر — Page 275
275 پر مکرمی حمید احمد صاحب نے بتایا کہ حضرت میاں صاحب کا لاہور سے ارشاد آیا ہے کہ عزیزم منیر احمد کا ضرور انتظار کر لیا جائے۔چنانچہ تھوڑے سے مزید انتظار کے بعد عزیزم منیر الدین احمد آ پہنچے اگر چند منٹ قبل میت کو دفنا دیا جاتا تو وہ والد صاحب کا چہرہ دیکھنے اور آخری دعا سے بھی محروم رہ جاتے۔والد صاحب کی وفات کے بعد میری والدہ صاحبہ نے میری بڑی ہمیشرہ کو اپنا ایک سونے کا کنگن دے کر حضرت میاں صاحب کے پاس بھیجا کہ اس کو درویشان قادیان کے مصارف میں استعمال کر لیا جائے۔ہمیشرہ صاحبہ کو یہ یقین تھا کہ حضرت میاں صاحب اس کو بخوشی قبول فرما کر دفتر خدمت درویشاں میں بھجوا دیں گے۔لیکن آپ نے یہ کہہ کر اُسے واپس کر دیا کہ اُن سے کہیں کہ اسے ابھی اپنے پاس رکھیں۔بعد ازاں والدہ صاحبہ خود حضرت میاں صاحب کے پاس گئیں اور پھر یہی پیشکش کی۔آپ نے فرمایا آپ کو اس کا ثواب پہنچ گیا ہے۔نہ جانے آپ پر کیا حالات آئیں۔یہ چیز آپ کے کام آئے گی۔‘ وے۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ حضرت میاں صاحب فوت ہونے والوں کے پسماندگان کے ساتھ کس قدر ہمدردی رکھتے تھے اور ان کی بہتری اور بہبودی کا آپ کو کتنا خیال رہتا تھا۔محترم ثاقب صاحب زیروی ایڈیٹر رسالہ ”لاہور کے والد ماجد کی وفات پر آپ نے مورخہ ۲ مئی ۱۳ ء کو جو تعزیت نامہ لکھا وہ درج ذیل ہے: عزیز مکرم ثاقب صاحب! السلام علیکم ورحمة الله وبركاته آپ کا خط مورخہ ۶۳-۰۴-۲۹ موصول ہوا۔جب والد صاحب کی وفات پر غم والم کے جذبات کا ہجوم ہوا کرے تو آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام یاد کر لیا کریں جو حضور کو اپنے والد یعنی ہمارے دادا کی وفات پر ہوا تھا۔الیــــس 66 الله بکاف عبده “ د یعنی اے میرے بندے تو کیوں گھبراتا ہے کیا میں تیرے لئے کافی نہیں اور کیا تیرے بوجھوں کے اُٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا؟“ اس خط میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام الیس الله بکاف عبده “ درج فرما کر ثاقب صاحب کی زندگی میں کس قدر شاندار انقلاب پیدا کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔