حیات بشیر

by Other Authors

Page 249 of 568

حیات بشیر — Page 249

249 سے آگاہ فرما رہے ہیں۔بلکہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک دوست سے خوش طبعی کے طور پر شکوہ کر رہے ہیں۔حضرت میاں صاحب اپنے خدام کی دلداری کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔محترم ہاشمی صاحب ہی کا بیان ہے کہ ”دو اڑھائی سال کی بات ہے کہ رشتہ میں میرے ایک چچیرے بھائی کی وفات پر جبکہ ان کا لڑکا اُن کی نعش کو بہشتی مقبرہ میں دفن کرنے کے لئے سیالکوٹ سے ربوہ لایا تو میرے عرض کرنے پر کہ اگر آپ کی طبیعت اچھی ہو تو آپ جنازہ پڑھا دیں۔فرمایا کہ میں جنازہ پڑھا دوں گا اور پھر باوجود علالت طبع کے اور نقرس کی تکلیف کے پاپیادہ کوٹھی سے تشریف لا کر احاطہ مسجد مبارک میں نماز جنازہ پڑھا دی اور میت کو کندھا بھی دیا۔گذشتہ ڈیڑھ سال سے جب کہ آپ کی صحت اچھی نہ رہتی تھی۔آپ مختلف تقریبات میں شمولیت سے معذرت کر دیتے تھے۔میں نے 2/مارچ ۶۳ء کو اپنی بچی کے رخصتانہ کی تقریر پر دعا کرانے کی درخواست کی۔جس پر تحریر فرمایا: اللہ مبارک کرے۔اگر صحت ہوئی اور زندگی رہی تو انشاء اللہ حضرت صاحب کی سیر کے بعد آپ کی بچی کی شادی میں شریک ہوں گا۔وقت کی تعیین کرنا مشکل ہے۔شاید پونے پانچ بجے کا وقت ہو جائے۔“ چنانچہ آپ از راہِ شفقت تشریف لے آئے اور آپ نے دُعا کو ان کلمات کے ساتھ شروع فرمایا۔" مختار احمد صاحب ہاشمی جن کی بچی کا آج رخصتانہ ہے میرے دفتر کے ہیڈ کلرک ہیں۔اس لحاظ سے ان کا دوہرا حق ہے۔احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی بچی کو امن و راحت کی زندگی نصیب کرے۔اس رشتہ کو مثمر ثمرات حسنہ بنائے۔میاں بیوی کو اتفاق و اتحاد سے نوازے اور انہیں بابرکت زندگی نصیب ہو۔“ اس کے بعد اجتماعی دعا کرائی۔دوہرا حق“ کے الفاظ میں جو دلجوئی، دلداری، حوصلہ افزائی، محبت اور شفقت کا اظہار ہے وہ میرے لئے اور میرے عزیز و اقارب کے لئے باعث صد فخر ہے اور ہمیشہ رہیگا۔اے