حیات بشیر

by Other Authors

Page 248 of 568

حیات بشیر — Page 248

248 تیار کرنے والے کی طرف منسوب کر دی جاتی ہے۔مکرم شیخ نصیر الدین صاحب ایم ایس سی سابق مبلغ سیرالیون نائیجیریا کا بیان ہے کہ تقسیم ملک کے بعد لاہور میں آپ کا دفتر جو دھامل بلڈنگ میں تھا اس میں عام رواج کے برعکس آپ کا کمرہ پہلے آتا تھا اور آپ کے اسٹنٹ (مکرم خلیل احمد صاحب ابن مولوی عطا محمد صاحب سابق سیکرٹری مجلس کار پرداز بہشتی مقبرہ) کا بعد میں، اور بسا اوقات یوں ہوتا کہ بعض ملنے والے آکر دریافت کرتے کہ کیا خلیل صاحب یہاں ہیں؟ تو آپ فرماتے کہ آگے چلے جائیں وہ اس کمرہ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ایک مرتبہ لاہور میں جو دھامل بلڈنگ کے ایک کمرے میں جہاں آپ کے اسٹنٹ مکرم خلیل احمد صاحب رہتے تھے خاکسار اُن کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک حضرت میاں صاحب وہاں تشریف لے آئے (غالبا وہ چھٹی کا دن تھا یا دفتر کے بعد کا وقت تھا اور وہیں ٹہلتے ہوئے مکرم خلیل احمد صاحب کو ایک مضمون لکھوا کر تشریف لے گئے۔گویا دفتر کے اوقات کے علاوہ وقت میں جب آپ کو مضمون لکھانے کی ضرورت پیش آئی تو نہ آپ نے مکرمی خلیل صاحب کو اپنے گھر بلایا اور نہ ہی ان کو یہ پیغام بھیجا کہ دفتر کھولیں اور آپ کا وہاں انتظار کریں۔بلکہ خود تیار ہوکر گھر سے تشریف لائے اور خود اُن کے کمرہ میں آکر ہی مضمون لکھوا دیا۔تا کہ ان کو ساتھ ہی واقع کمرہ کھولنے کی بھی کوفت نہ اٹھانی پڑے۔“ ۵۰ مکرم مختار احمد صاحب ہاشمی آپ کے دفتر میں ہیڈ کلرک تھے جب حضرت میاں صاحب ربوہ سے باہر تشریف لے جاتے تو انہیں ہدایت تھی کہ روزانہ ایک چٹھی کے ذریعہ دفتری کاروائی سے اطلاع دیا کریں۔ہاشمی صاحب فرماتے ہیں۔۱۹۶۱ء میں کسی وجہ سے میرے مختلف تاریخوں کے چار خط آپ کو ایک ہی دن میں ملے۔اس پر آپ نے مجھے مخاطب کر کے تحریر فرمایا: " آج آپ کی طرف سے چار خط اکٹھے ملے اور میرا بوجھ بڑھ گیا۔اب سوچتا ہوں کہ آپ کا شکریہ ادا کروں یا شکوہ کروں۔“ دیکھئے۔کس خوش اسلوبی کے ساتھ آپ نے اپنے ایک ماتحت کارکن کو اس کی غلطی کی طرف توجہ دلائی۔آپ کے الفاظ سے ہر گز یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ایک ماتحت کو اس کی غلطی