حیات بشیر — Page 250
250 صحابہ مسیح موعود سے محبت اور اُن کا احترام - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کرام سے آپ کو بیحد محبت تھی اور آپ ان کا بہت احترام فرمایا کرتے تھے۔نوجوانوں کو ہمیشہ تحریر کے ذریعہ بھی اور زبانی بھی تحریک فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اب بہت تھوڑی تعداد میں رہ گئے ہیں۔ان سے ملتے رہا کرو اور ان کی برکات سے فائدہ اٹھاتے رہا کرو۔نیز کوشش کرو کہ ان جیسا خلوص، فدائیت اور تعلق در باللہ کا رنگ تمہارے اندر بھی پیدا ہو جائے۔مکرم شاہد احمد صاحب بی اے بیان فرماتے ہیں کہ مجلس مشاورت ۱۳ ء کے پہلے یا دوسرے روز کی کاروائی جب اختتام پذیر ہوئی اور لوگ تعلیم الاسلام کالج ہال سے واپس اپنے گھروں کو روانہ ہوئے تو شام کا وقت تھا اور سخت گھٹا چھائی ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے صحابی حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری رضی اللہ عنہ پا پیادہ واپس اپنی رہائش گاہ (غالباً فیکٹری ایریا میں کسی گھر میں مقیم تھے ) کو جا رہے تھے۔خاکسار بھی پیچھے سے سائیکل پر واپس آرہا تھا۔اتنے میں حضرت میاں صاحب کی کار بھی پیچھے آگئی۔حضرت میاں صاحب نے حضرت قاضی صاحب کو دیکھ کر اپنی کار رکوائی اور قاضی صاحب کو کار پر بیٹھا کر ان کی رہائش گاہ تک پہنچا کر واپس ہوئے۔‘ ۵۲ بعض صحابہ کرام کے ساتھ تو آپ کو اس قدر لگاؤ تھا کہ بعض اوقات آپ خود بھی ان کی ملاقات کے لئے پہنچ جاتے تھے۔ان بزرگ صحابہ میں سے حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی، حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔نوجوانوں کی تربیت اور بہتری کا خیال جماعت کے نوجوانوں کی تربیت اور بہتری کا آپ کو ہر وقت خیال رہتا تھا۔جو نوجوان آپ سے گھر پر یا راستے میں ملاقات کرتا آپ اس سے اس کی تعلیم کاروبار اور مستقبل کے متعلق ارادے معلوم کر کے اسے نہایت ہی مفید اور قیمتی مشوروں سے نوازتے۔میاں نعیم الرحمن صاحب ابن حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد فرماتے ہیں: ” میرے پھوپھی زاد بھائی مکرم رشید احمد صاحب جنہوں نے ایم اے پاس کر لیا