حیات بشیر — Page 229
229 بظاہر مہربانی اور شفقت سے آپ نے مجھے گلے لگا لیا اور فرمایا کہ میں نے اطلاع دی تھی کہ ”میں خود گھر پر آکر ملوں گا۔آپ نے بیماری کی حالت میں یہاں آنے کی کیوں تکلیف کی ہے۔خاکسار نے عرض کیا کہ گھر قریب ہی ہے اور مجھے یہاں پہنچنے میں کوئی خاص تکلیف بھی نہیں ہوئی۔لہذا آنمکرم کی تکلیف کے پیش نظر خود ہی حاضر ہو گیا ہوں۔آپ نے ڈاکٹری علاج اور مشورہ کے متعلق پوری دلچسپی سے تفصیلات دریافت فرمائیں۔خاکسار آپ کے اس محسنانہ سلوک اور بے تکلف انداز سے بہت متاثر ہوا۔اللہ تعالیٰ آپ پر اور آپ کی اولاد پر بے شمار رحمتیں تا ابد نازل فرماتا رہے۔آمین“ ہے محترم میاں محمد ابراہیم صاحب ہیڈ ماسٹر ہائی سکول ربوہ کو آپ نے لکھا: درویشوں کے جو بچے سکول میں پڑھتے ہیں ان کی تعلیم وتربیت کا خاص خیال رکھا جائے کیونکہ وہ ہمارے پاس خاص امانت ہیں۔“ ہے یہ مکتوب گرامی مختصر سا ہے لیکن اس کا ایک ایک لفظ اس محبت اور شفقت کا پتہ دے رہا ہے جو آپ کے دل میں درویشان قادیان کے بچوں کے متعلق تھی۔محترمہ مبارکہ قمر صاحبہ اہلیہ محترم ڈاکٹر بشیر احمد صاحب گولبازار ربوہ فرماتی ہیں: ۱۹۴۹ء میں قادیان جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے پاکستان سے احمدیوں کا پہلا قافلہ تیار ہوا۔عاجزہ نے بھی شمولیت کی درخواست دے دی۔لیکن مجھے اس کی اطلاع ملنے پر سخت تکلیف ہوئی کیونکہ میرا شوہر قادیان میں درویش تھا اور میں یقین رکھتی تھی کہ مجھے دیار حبیب کی زیارت کا موقعہ دے دیا جائے گا۔چنانچہ میں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں بے وقوفی اور بے باکی سے لکھ مارا کہ حضرت عمر فاروق کے عہد میں تو سپاہیوں کو تین ماہ کے بعد گھر جانے کی اجازت ہوا کرتی تھی لیکن فضل عمر ایدہ اللہ تعالیٰ کے عہد مبارک میں بیوی کو درخواست کرنے پر بھی خاوند سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔میں نے یہ لکھنے کو تو لکھ دیا لیکن یہ نہ سوچا کہ میرے انتہائی رنج کی حالت میں لکھے ہوئے الفاظ کیا اثر رکھتے ہیں۔حضرت میاں صاحب نے میرا خط پڑھتے ہی میرے دیور مکرم محمد احمد صاحب کو