حیات بشیر

by Other Authors

Page 230 of 568

حیات بشیر — Page 230

230 لاہور سے میرے پاس لائکپور روانہ فرمایا کہ وہ میری دلجوئی کریں اور مزید دلجوئی کے لئے انہیں قادیان اسی قافلہ میں اپنے بڑے بھائی سے ملاقات کے لئے بھیج دیا۔میرے دیور بیان کرتے تھے کہ قافلہ کی روانگی کے سلسلہ میں سارا دن کام کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ رکھا۔آپ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد فرماتے کہ مجھے بڑی تکلیف ہو رہی ہے کہ مجبوراً مستورات کو نہیں بھجوا رہا کیونکہ قادیان میں ابھی حالات مخدوش ہیں۔صرف تین ضعیف العمر عورتیں تجربہ کے طور پر بھجوائی جا رہی ہیں۔پھر میرے دیور کو فرمایا کہ قادیان جانے سے پہلے مبارکہ کے پاس دوبارہ جاؤ اور اسے تسلی دے کر آؤ۔کہ میاں صاحب صرف تمہاری خاطر محمد احمد کو قادیان بھجوا رہے ہیں۔میرے دیور بیان کرتے تھے کہ جس طرح ایک درد مند باپ کو اپنی بیٹی کا احساس ہوتا ہے ایسے ہی حضرت میاں صاحب کو تمہارا خیال ہے۔یہ تھی میری پہلی اور غائبانہ ملاقات۔چند روز بعد جلسہ سالانہ ربوہ میں شمولیت کے لئے ربوہ گئی تو اپنی دونوں بچیوں کو ساتھ لے کر حضرت میاں صاحب کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئی۔حضور کی خدمت میں السلام علیکم عرض کیا۔حضور دروازہ سے ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہو گئے اور سلام کا جواب دے کر فرمایا۔کہاں سے آئے ہو؟ تمہارے ابا کا کیا نام ہے۔بچی نے عرض کیا۔ڈاکٹر بشیر احمد۔فرمایا لاہور والے ڈاکٹر بشیر احمد۔میں نے عرض کیا۔نہیں حضور ! قادیان والے ڈاکٹر بشیر احمد درویش۔مسکراتے ہوئے بلند آواز میں فرمایا۔اچھا۔اچھا ! پھر خیریت پوچھی اور فرمایا کہ ہو تم عورت لیکن تحریر ماشاء اللہ مردوں کی سی ہے۔مجھے تو تم عورت نہیں مرد معلوم ہوتی ہو۔میں شرمندہ سی ہوگئی اور معذرت کی کہ مجھے حقیقت حال سے خبر نہ تھی۔میں نے سمجھا تھا کہ شاید درخواستیں زیادہ تھیں اس لئے میری درخواست منظو ر نہ ہو سکی۔فرمانے لگے مجھے تو تمہارا خط پڑھ کر خوشی ہوئی تھی کہ ہماری جماعت میں خدا کے فضل سے بیداری پائی جاتی ہے۔یہ میری حضور سے پہلی ملاقات تھی۔اس کے بعد میں نے ہمیشہ حضرت میاں صاحب کو باپ کی طرح شفیق پایا۔بلا جھجک آپ کے حضور پہنچ کر عرض معروض کرتی اور بسا اوقات ضد کر کے اپنی بات منوا لیتی۔آپ تھوڑے سے پس و پیش