حیات بشیر — Page 228
228 کروں گا۔آپ چونکہ یہ سمجھتے تھے کہ قادیان کے درویش تمام جماعت کی خاطر ایک بہت بڑی قربانی کر رہے ہیں انہوں نے مرکز کی حفاظت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔سالہا سال سے بعض درویشوں کے بچے یہاں پاکستان میں ہیں اور وہ قادیان میں عزلت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔اس لئے آپ ان کے بچوں کے حالات سے پوری طرح باخبر رہتے تھے۔او ر اُن سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے۔قارئین یہ سن کر حیران ہوں گے کہ بعض اوقات جب کسی درویش کے بچوں کو آپ سے ملاقات کئے کافی دیر ہو جاتی تو آپ خود ان کے گھر تشریف لے جا کر ان کی خیریت پوچھتے۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آپ درویشان قادیان اور ان کے بچوں کے لئے بمنزلہ باپ تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے ناظر صاحب امور عامہ قادیان کو جو چٹھی لکھی۔اس میں یہ بھی لکھا ”قادیان کی انجمن اور میں جو اُن کا ناظر ہوں درویشوں کے لئے گویا باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔“ ۳۹ ذیل میں درویشان قادیان کے ساتھ حسنِ سلوک کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔محترم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی مرحوم کا بیان ہے کہ۔مارچ ۵۴ء کا واقعہ ہے کہ خاکسار بیماری کی حالت میں پاکستان پہنچا۔حضرت میاں صاحب نے پاکستانی بارڈر پر اس حقیر خادم کی سہولت کے لئے کار کا انتظام کیا ہوا تھا۔نیز میو ہسپتال میں ماہر فن ڈاکٹر سے معائنہ کرانے کا بھی انتظام فرمایا ہوا تھا۔چنانچہ خاکسار چند دن لاہور میں توقف کر کے علاج کے متعلق مشورہ اور ادویہ حاصل کر کے ربوہ حاضر ہوا۔میرے چھوٹے بھائی عزیز مبشر احمد سلمہ نے حضرت محترم کی خدمت میں میری آمد کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ ”وہ بیمار ہیں میں ۸ بجے صبح کے قریب گھر پر آکر ان سے ملوں گا۔خاکسار نے اس خیال سے کہ آنحترم کو گھر پر آنے میں تکلیف ہو گی اور مجھے دفاتر تک جانا چنداں مشکل نہ تھا۔ساڑھے سات بجے آپ کے دفتر میں حاضر ہو گیا۔جب خاکسار نے دفتر کے دروازے پر پہنچ کر السلام علیکم عرض کیا اور اجازت چاہی تو آپ وفور محبت اور اشتیاق سے فوراً کرسی سے اُٹھے (جوتا آپ نے اس وقت گرمی کی وجہ سے اُتار کر پاؤں کے نیچے رکھا ہوا تھا۔اور ننگے پاؤں دروازے کی طرف بڑھے اور نہایت