حیات بشیر — Page 219
219 صاحب اگر وہ تعلقات بگاڑنے والے ہوتے تو بگڑ سکتے تھے۔مگر ایسی خوش اسلوبی نبھایا کہ ایسے نمونے ملتے مشکل سے ہی ہیں۔ادھر سالہا سال سے وہ بیمار بھی چلی آ رہی ہیں۔اتنے دراز عرصہ میں انسان اور اتنے کاموں والا جس کے کندھے پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ہوں اور خود بیمار ہو۔اس سے غفلت بھی ہوسکتی ہے کسی وقت بے دھیان بھی ہو سکتا ہے مگر کبھی ان کی خدمت اور دیکھ بھال سے غافل نہ ہوئے۔ذرا ذرا دیر کے بعد اس حال میں کہ اپنی ٹانگیں لڑ کھڑا رہی ہیں۔طبیعت خراب ہے ان کی خبر پوچھنے ان کے کمرے میں جارہے ہیں۔ان کی خادمات کی خاطریں ہو رہی ہیں کہ اس بے کس بیمار ولا چار کو چھوڑ کر نہ چل دیں۔غرض بچپن کی حضرت مسیح موعود کے ہاتھوں کی لگائی خوب نبھائی۔اولاد کے لئے بہترین شفیق باپ تھے۔کسی بات پر سمجھاتے بھی تو نرمی سے۔اکثر شاید اس خیال سے کہ میں نرمی کروں گا۔کسی امر کی اصلاح مدنظر ہوتی تو دوسرے عزیز کو قریب سے کہتے کہ ذرا میرے فلاں بچہ کو تم اس معاملہ میں سمجھانا۔مجھ سے بھی یہ خدمت لی ہے۔غرض آپ کی گھریلو زندگی کا بھی ہر پہلو ایک نمونہ تھا۔سوچ کر ایک ہلکی ہلکی بوندیں پڑنے کا سماں تصور میں آتا ہے کہ ٹھنڈی خوشگوار ہوا چل رہی ہے اور ابر رحمت سے قطرے گر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ان پر تا ابد برستی رہے۔آمین۔۳۲ میں سمجھتا ہوں مضمون کا یہ حصہ مکمل ہو جائے گا اگر میں حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد سلمہ اللہ تعالیٰ کا بیان بھی جو اس بارہ میں انہوں نے الفضل میں چھپوایا ہے درج کردوں۔آپ فرماتے ہیں: حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا بھی ابا جان بہت احترام کرتے تھے۔اور ان کے وجود سے جو برکات وابستہ تھیں ان سے کما حقہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ قادیان میں آپ کا معمول تھا کہ شام کا کھانا قریباً روزانہ حضرت اماں جان کے ساتھ کھاتے تھے۔کھانا معا مغرب کی نماز کے بعد کھایا جاتا تھا اور نماز سے فارغ ہو کر سیدھے اماں جان کے گھر جاتے تھے اور شام کا کھانا وہیں کھاتے تھے برادرم مکرم مرزا ناصر احمد صاحب کے علاوہ جو ہمیشہ اماں جان کے