حیات بشیر — Page 220
220 ساتھ ہی رہے ، میں بھی شامل ہو جایا کرتا تھا۔اور بعض دفعہ اور عزیز بھی کبھی کبھی ماموں جان ( حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب) بھی ہوتے تھے اور اس موقعہ پر اباجان اور ماموں جان میں کسی نہ کسی دینی موضوع پر گفتگو شروع ہو جاتی۔بعض مرتبہ حضرت اماں جان تنگ آکر فرمایا کرتی تھیں۔میاں ! اب بس کر و۔کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ایسے مواقع پر بعض مرتبہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز بھی مغرب کی نماز کے بعد مسجد سے فارغ ہو کر راستہ میں گھر جاتے ہوئے ٹھہر جایا کرتے تھے۔ایسے مواقع پر حضور بیٹھتے کم تھے۔بلکہ صحن یا کمرہ میں موسم کے مطابق جہاں کہیں کھانے کا انتظام ہو ٹہلتے رہتے تھے۔اور گفتگو فرماتے جاتے تھے حضرت اماں جان کو بھی اباجان سے بہت پیار تھا۔میری نظروں کے سامنے اب بھی اماں جان ان سیڑھیوں کے اوپر جو ہمارے قادیان کے مکان کو حضرت صاحب اور حضرت اماں جان کے مکان سے ملاتی ہیں۔کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ہاتھ میں پلیٹ ہیں۔ہوتی۔جس میں کوئی کھانے کی چیز جو انہوں نے پکائی ہوتی تھی۔پکڑے ہوتی تھیں اور ابا جان کو آواز دے کر بلاتی تھیں کہ میاں تمہارے لئے لائی ہوں لے لو۔ایسے وقت میں کبھی صرف ”میاں“ کہہ کر پکارتی تھیں۔کبھی ”میاں بشیر اور کبھی صرف بشری۔اسی محبت کے نام کی یاد میں اباجان نے ربوہ کے مکان کا نام البشری رکھا اور اسے گھر کے دونوں طرف نمایاں کر کے کندہ کروایا۔“ اپنی آخری بیماری کے ایام میں ابا جان والدہ کو جاتے ہوئے کہہ گئے تھے کہ میری وفات کے بعد میری الماری میں ایک چھوٹا سا اٹیچی کیس ہے وہ مظفر کو کہنا خود کھولے۔چنانچہ جب میں نے اُسے کھولا تو اس میں بعض اور ذاتی کاغذات کے علاوہ کچھ حضرت مسیح موعود کے دستی لکھے ہوئے خطوط اور چند لفافوں میں کچھ روپے پڑے تھے۔اور ہر ایک کے ساتھ مختصر سا نوٹ تھا کہ یہ رقم حضرت ام المؤمنین نے بطور عیدی ابا جان کو دی تھی اور آپ نے تبرکاً اُسے محفوظ رکھا ہوا تھا۔عیدی کی بعض رقوم قادیان کی دی ہوئی تھیں اور ہندوستانی نوٹ میں تھیں۔اس لئے ان کے لئے آپ نے اسٹیٹ بنک سے اجازت لے رکھی تھی اور وہ اجازت نامہ نوٹوں کے