حیات بشیر

by Other Authors

Page 196 of 568

حیات بشیر — Page 196

196 ”میری خواہش ہے کہ تم لوگ اس خدا کی طرف جھکو جو خالق ارض وسماء ہے۔کسی فانی چیز پر بھروسہ نہ کرو۔صرف اسی سے مدد مانگو جومنبع ہے ہر ایک فیض کا ، چشمہ ہے ہر ایک رحمت کا۔اس کی مدد کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔پس اس کی رضا چاہو۔اگر وہ راضی ہے تو پھر کسی کا ڈر نہیں۔دنیا اندھی ہو رہی ہے۔تم کو چاہیئے کہ آنکھیں کھولو اور خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھ لوگ خواب غفلت میں پڑے سوتے ہیں پس موقع ہے کہ تم جاگو اور ہوشیار ہو جاؤ۔اُٹھو کہ میدان خالی ہے۔کچھ کوشش کرو تا تمہارے درجات بلند ہوں۔کو ئی ہے جو اس غریب الوطن کی صدا کو ہوش کے کانوں سے سُنے۔میں تم سے کچھ نہیں چاہتا صرف یہ کہ تم میری اس بات کو مانو۔میری خواہش ہے کہ ہماری تمہاری نسلیں تمہارے نمونہ پر چلنے کو فخر سمجھیں۔خدا کرے کہ تمہارے نام تا روز قیامت ستاروں کی طرح آسمان پر چمکیں۔خدا کرے کہ تمہارا اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، بولنا چُپ رہنا، چلنا مقام کرنا صرف خدا کے لئے ہو۔یہ مت خیال کرو کہ دین کی طرف جاؤ گے تو دنیا ہاتھ سے چلی جائے گی بلکہ اگر تم دین کی طرف آؤ گے تو دنیا خود حاصل ہو جائے گی۔دیکھو مسلمانوں نے شروع میں دین کو مضبوط پکڑا تو کیا دنیا اُن کو نہیں ملی؟ نہیں بلکہ بڑے بڑے ملکوں کے بادشاہ ہوئے۔ہاں جب دین کمزور ہوا تو دنیا چھن گئی۔اپنا معاملہ خدا سے درست کرو۔اگر پھر کوئی ناراض ہوتا ہے تو کوئی پروا نہیں۔خدا کا مقابلہ کو ن کر سکتا ہے۔وہی جو ہلاک ہونا چاہے۔پس ہلاکت سے بچو۔کسی کی طرف سے اپنے دل میں کینہ مت رکھو۔کیونکہ کینہ تو ز کو کبھی چین نصیب نہیں ہوتا۔اس کا دل ہمیشہ دشمنی کی آگ سے جلتا رہتا ہے۔گویا اس کے سینہ میں دوزخ کی آگ کام کرتی ہے۔بڑوں کی فرمانبرداری کرو کہ اس میں برکت ہے۔وہ جس کے دل میں فرمانبرداری کا مادہ نہیں ہوتا۔کبھی کسی درگاہ میں مقبول نہیں ہوسکتا۔اگر چاہتے ہو کہ خدا تک پہنچو تو اطاعت کو اپنا عین فرض منصبی قرار دو۔نافرمانی کی تباہ کن مرض سے بچو کہ یہ ہلاکت تک پہنچا دیتی ہے۔اپنے بے جا غضبوں کو روکو کہ یہ بھی کم مہلک نہیں غضب بھی عجیب حرکتیں کرواتا ہے۔اپنے دل سے نفاق کو نکال دو کہ یہ نامر دوں کا کام ہے۔دورنگی ٹھیک نہیں۔صاف دل انسان ہمیشہ عزت پاتا ہے۔سستی کو دُور