حیات بشیر

by Other Authors

Page 197 of 568

حیات بشیر — Page 197

197 کرو کہ یہ مومن کی شان سے بعید ہے۔مومن کو ہمیشہ چست ہونا چاہیے۔اپنے وعدوں کا ایفا کرو اور اپنے اقوال کا پاس رکھا کرو کہ اس کے سوا اعتبار قائم نہیں رہتا۔بدظنی کو اپنے دل سے نکال دو کہ یہ انسان کی ٹھوکر کا موجب ہوتی ہے۔آپس میں محبت کو بڑھاؤ کہ اس سے الہی ترجمات کا نزول ہوتا ہے۔لغو عادات کو چھوڑ دو کہ مومن اُن سے بچتا ہے۔بدصحبت سے بچو کہ اس کا اثر بہت بُرا ہوتا ہے کی عمر پر بھروسہ نہ کرو کہ موت جوانی کو نہیں دیکھتی۔کچھ کرلو کیا معلوم کہ کب موت آ جائے۔بد زبانی سے بچو کہ اس سے تقویٰ و طہارت کو نقصان پہنچتا کرو تالوگ تم سے ہمدردی کریں۔بڑوں کی عزت کرو تا چھوٹے تمہاری عزت ہے۔جوانی ہمدردی کریں۔چھوٹوں کا لحاظ کرو تا بڑے تمہارا لحاظ کریں۔خدا کرے تم ایسا ہی کرو۔غور کیجئے کتنی چھوٹی عمر ہے اور کس قدر پر مغز نصیحتیں کی جارہی ہیں۔کیا یہ آپ کی فطرت کی پاکیزگی اور قلب کی صفائی کا بین ثبوت نہیں؟ آپ کو بچپن ہی سے اللہ تعالیٰ نے حساس دل اور چشم بصیرت عطا فرمائی تھی۔چنانچہ آپ اپنے بچپن کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”جب یہ خاکسار سکول کی نہم اور دہم جماعت میں تعلیم پاتا تھا تو اس وقت ہمیں ایک انگریزی کی کتاب گولڈن ڈیڈز (Golden Deeds) پڑھائی جاتی تھی۔جس میں بعض مغربی بچوں اور نوجوانوں کے سنہری کاموں کا ذکر درج تھا۔مجھے اس کتاب کو پڑھ کر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ایک کتاب اُردو میں مسلمان نوجوانوں کے کارناموں کے متعلق لکھی جائے جس میں مسلمان بچوں کے ایسے کارنامے درج کئے جائیں جو مسلمان نونہالوں کی تربیت کے علاوہ دوسری قوموں کے لئے بھی ایک عمدہ سبق ہوں۔یہ خواہش طالب علمی کے زمانہ سے میرے دل میں قائم ہو چکی تھی۔اس کے بعد جب میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا تو یہ خواہش اور بھی ترقی کر گئی کیونکہ میں نے دیکھا کہ جو کارنامے مسلمان نوجوانوں کے ہاتھ پر ظاہر ہو چکے ہیں وہ ایسے شاندار اور رُوح پرور ہیں کہ ان کے مقابلہ پر مسیحی نوجوانوں کے کارناموں کی کچھ بھی حیثیت نہیں اور میں نے ارادہ کیا کہ جب بھی خدا توفیق دے گا میں اس کام کو کروں گا۔“۔