حیات بشیر — Page 195
195 بالمعروف و نہی عن المنکر کے جذبہ کے ماتحت آپ نے اپنے ہم جولیوں کو وعظ ونصیحت کے خطوط لکھنا شروع کر دیئے۔ذیل میں صرف ایک خط درج کیا جاتا ہے اور اس سے ہی احباب اندازہ کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اوائل جوانی میں ہی آپ کو کیسی پاکیزہ فطرت عطا فرمائی تھی۔آپ لکھتے ہیں: ”میرا قاعدہ ہے کہ میں اپنے احباب کو ہمیشہ ان کے فرائض منصبی کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔یہ میں نے اپنی جان پر فرض کر لیا ہے خواہ کوئی میری سُنے یا نہ سُنے مگر میں ہمیشہ اپنے کندھوں سے اس بوجھ کو اُتارتا رہتا ہوں۔“ آگے چل کر آپ لکھتے ہیں: جوانی کی عمر عجیب عمر ہوتی ہے اس میں انسانی طاقتیں اپنے پورے زور اور کمال پر ہوتی ہیں۔اس لئے وہ شخص جو اس عمر میں اپنی خواہشات پر قابو پاتا ہے وہ خدا کے نزدیک ایک بہت بڑا درجہ رکھتا ہے۔نبی کریم علیہ فرماتے ہیں کہ جس کی جوانی تقویٰ اور طہارت میں کٹ گئی اس کا بہت درجہ ہے کیونکہ اس وقت انسانی جذبات پورے زور پر ہوتے ہیں۔وہ شخص جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہو اور پھر بھی وہ کسی غریب کے پیٹنے سے پرہیز کرتا ہے ایک بڑا درجہ رکھتا ز کرتا ہے ایک بڑا درجہ رکھتا ہے بہ نسبت اس کے جس کے ہاتھ میں مارنے کا کوئی سامان نہیں ہے۔پس مبارک موقع ہے آپ لوگوں کے لئے ایک بڑا درجہ ہے حاصل کرنے کا۔نفسانی خواہشات کا مرد بن کر مقابلہ کرو تا خدا کے مقرب اور پیارے بندوں میں سے گنے جاؤ نفس کا گھوڑا بہت سرکش ہوتا ہے اسے تقویٰ اور طہارت کی خاردار لگام دو تا کہ اس پر قابو پاؤ۔ورنہ یاد رکھو وہ تمہیں ایک ایسے تاریک گڑھے میں گرائے گا جہاں سے نکلنا سوائے خاص فضل خدا کے نہایت مشکل ہوگا۔اگر اس وقت میری درد مندانہ نصیحت پر عمل نہیں کرتے او راہِ مستقیم پر نہیں چلتے تو ایک دن آئے گا جب زمانہ خود سیدھا کر دے گا۔اس وقت کہو گے کہ کسی ہمدرد نے پہلے ہی سے متنبہ کیا تھا مگر میں تمہیں ابھی سے کہہ دیتا ہوں کہ گر نہیں سنتے قول اب پھر میرا نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا