حیات بشیر — Page 551
551 پیلا طوس کا ہمدرد ہونا۔اگلا دن سبت کا ہونا۔آندھی کا انا۔نیزہ مارنے سے بہتا ہوا خون نکلنا۔مسیح کا یہ قول کہ یونس نبی کے سوا کوئی اور نشان نہیں دکھایا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔آپ نے صرف بعد کی تحقیق کو لے لیا ہے اور حضرت مسیح موعود کے دیئے ہوئے دلائل کا ذکر تک نہیں کیا۔:2 صفحہ ۷۶ پر آپ نے لکھا ہے۔حضرت اماں جان کا رخصتانہ دتی میں ہی ہو گیا تھا۔اس سے اگر یہ مراد ہے کہ وہ دلی سے رخصت ہوئے تو درست ہے (گو یہ بات ظاہر تھی کہ جس کے خلاصہ ذکر کی ضرورت نہیں) لیکن اگر یہ مراد ہے کہ حضرت مسیح موعود دلّی میں کوئی الگ مکان لے کر اس میں حضرت اماں جان کو لے گئے اور خلوت ہو گئی تو یہ درست نہیں اور بہر حال اس کی سند ہونی چاہیے۔اس وقت صرف یہی حصہ دیکھا ہے۔اس وقت طبیعت اچھی نہیں۔صرف مجملاً لکھا ہے۔اگر آپ نے میرے خط کا فوٹو دینا تھا تو مجھے بتاتے میں زیادہ صاف لکھ دیتا۔مرزا بشیر احمد ۶۰-۴-۱۱ نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن رحيم و على عبد المسيح الموعود السلام عليكم ورحمة الله وبركـ كاته مکرمی محترمی شیخ عبد القادر صاحب امید ہے آپ کو میرا پہلا خط مل گیا ہوگا جس میں حیات طیبہ کی بعض باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔اب بقیہ باتیں لکھتا ہوں۔تحقیق کر لیں۔: معلوم " صفحہ ۲۲۶ کے آخر میں اپنے لکھا ہے کہ ۱۸۹۷ء میں مسجد مبار کی توسیع کی گئی۔یہ درست نہیں ہوتا۔مسجد مبارک کی پہلی توسیع غالباً 1907ء میں ہوئی تھی۔میرے خیال میں سیرۃ المہدی میں بھی اس کے متعلق نوٹ ہے۔صفحہ ۲۵۸ میں آپ نے میموریل کا نتیجہ بصورت کامیابی یا ناکامی نہیں بتابا بلکہ اس معاملہ کو ۲ یونہی معلق چھوڑ دیا ہے۔جس کی وجہ سے طبیعت میں جستجو باقی رہتی ہے۔نتیجہ بتانا چاہیے۔صفحہ ٢٦٨ میں والـلـه يحصمك من الناس کا انداراج قابل غور ہے۔مفتی صاحب ۳: نے عصمت انبیاء کے متعلق ان الفاظ سے استدلال نہیں کیا ہوگا۔اس کے معنی تو اور ہیں۔صفحہ ۲۷۲ میں آپ نے لکھا ہے کہ مینار کے متعلق ہندوؤں کی شکایت کے بارہ میں تحقیق :