حیات بشیر — Page 505
505 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد پے کی وفات حسرت آیات پر حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کا مضمون پڑھکر محترم جناب عبدالسلام صاحب اختر پرنسپل تعلیم الاسلام کالج گھٹیالیاں) ہے خدا نے عرش بریں سے جسے پکارا ہے بڑے نیاز بڑی شان سدھارا نہ پاس ضبط ہے دل کو نہ غم کا یارا ہے مگر پکارنے والا بھی میرا پیارا ہے اگرچہ عالم فانی سے تو سدھارا ہے تیری دعاؤں کا اب بھی ہمیں سہارا ہے تری تجلی پنہاں نے یوں ابھارا ہے کہ میری آنکھ کا ہر اشک اک ستارا ہے وہ دل کہ پہلے ہی زخموں سے داغ داغ تھا اب تیری جدائی کے منظر سے پارا پارا ہے تیری حیات نے مُردوں کو زندگی بخشی تیری وفات نے زندوں کو آج مارا ہے ہر اک قدم پر تسلی ہر ایک نفس میں امید میرے حبیب تیری یاد پر گزارا ہے ابھی بھی نقش ہے دل میں ترا وہ قول سلیم تری وہ بات کہ دل میں جسے اُتارا ہے اگر ہو صاحب منزل کے دل میں ذوق جنوں تو بحر زیست کی ہر موج اک کنارہ ہے چھائی ہے (مصباح قمر الانبیاء نمبر صفحه ۲۷) اک اور ستارہ ڈوب گیا (محترم جناب میر اللہ بخش صاحب تسنیم) اداسی گردوں غمناک کر گیا کون جہاں افق با دیده تر روتی ہوئی کہتی صبا اک اور ستاره ڈوب گیا