حیات بشیر — Page 506
506 وہ مهدی کا نور وہ درج نبوت کا گوہر تھا جس کا لقب نبیوں کا اصل تقی وہ اک اور ستاره وہ صدر نشین بزم نور خدا ☐ وہ را اور ستاره ہیں بریاں بند اک اور ستاره دل جس کا تھا مہبط دل آتش غم رہنے کی نہیں اب مرد خدا کی جدائی کا تھا دل میں داغ ابھی تازہ وہ محلق ڈوب گیا شیریں زباں مصدر صدق وہ شیریں ادا و صفا نہ رہا ڈوب گیا آنکھوں کا لہو رکتا ہے کہاں فریاد کو روکیں کجا ڈوب گیا سینے ނ ابھی تھا خوں رستا کانوں میں فلک ޏ آئی صدا اک اور ستاره ڈوب گیا نگران :8 درویشوں کا وہ ہم ނ رُوٹھ گیا وہ مئے عرفان خدا خُلد بریں میں نغمہ سرا اور ستاره ڈوب گیا مجبور ہے انسان ہر یہاں عبث ہے آه و فغاں دنیا میں رنگ ہے دوام کہاں ہیں موت کی زد میں شاہ و گدا اور ستاره ڈوب گیا (الفضل خاص نمبر صفحه ۳۰)