حیات بشیر — Page 470
470 اندازہ نہیں لگا سکتے لیکن اسلام اور احمدیت کا آنے والا مؤرخ ان کے خدو خال کو اجاگر کرے گا اور تاریخ کے اس دور سے نہیں گزر سکے گا جب تک وہ مسیح محمدی کے ان پروانوں کو خراج تحسین نہ ادا کرے۔یہ خوش قسمت لوگ مسیح محمدی کی فوج کے صف اول کے سپاہی ہیں جن کی زندگی کا مقصد ایک اور صرف ایک تھا کہ اسلام دوبارہ زندہ ہواور دنیا کو ایک زندہ خدا اور ایک زندہ نبی محمد (ع) کی پہچان ہو۔ان بزرگوں نے اپنی تمام طاقتیں اور کوششیں اس مقصد کے حصول کے لئے بے دریغ خرچ کر دیں۔اور خدمت دین کا حق ادا کیا۔اسلام اور احمدیت کے پودے کی اپنے خون اور قربانی سے آبیاری کی۔اور دنیا کی کوئی کشش اس کے رستہ میں حائل نہ ہونے دی۔دین سے باہر کسی چیز میں کبھی دلچسپی لی تو فروعی اور وقتی طور پر اور زندگی اور ہر توجہ کا مرکزی نقطہ پرا ہمیشہ خدمت دین رہا۔اپنی تمام زندگی کا یہی موٹو ( Motto) رہا کہ دین دنیا پر بہر حال مقدم رہے اور اپنے پر ہر موت اس لئے وارد کی تا اسلام زندہ ہو۔مجھے یاد ہے ایک مرتبہ ایک بیماری کے حملہ کے دوران ڈاکٹروں نے اباجان کو مشورہ دیا کہ آپ کی صحت کی حالت ایسی ہے کہ آپ کام کم کیا کریں۔آپ نے اس مشورہ کو قبول نہیں کیا اور فرمانے لگے۔میں تو یہی چاہتا ہوں کہ دین کی خدمت کرتے کرتے انسان جان دے دے۔چنانچہ ڈاکٹروں کو یہ مشورہ دیا گیا کہ آپ اباجان کو کام سے نہ روکیں بلکہ یہ مشورہ دیں کہ آپ تھوڑے عرصہ کے لئے آرام فرما لیں تا پھر تازہ دم ہو کر پہلے کی طرح اپنا کام کرتے چلے جائیں۔چنانچہ یہ گر کار گر ہوا۔اور کچھ عرصہ کے لئے آرام کا مشورہ آپ نے اس رنگ میں قبول فرمایا کہ کچھ دنوں کے لئے کام کو کچھ ہلکا کر دیا۔“ آگے حضرت صاحبزادہ صاحب اپنے والد مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی طرف سے خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے لکھتے ہیں۔”اے جانیوالے تجھ پر خدا کی ہزاروں رحمتیں ہوں کہ تو عمر بھر اپنوں اور غیروں سب کیلئے ایک بے پایاں شفقت اور رحمت کا سایہ بن کر رہا۔دیکھ میرا ہاتھ کانپ رہا ہے اور میری آنکھیں اشکبار ہیں اور میرا دل تیری محبت کی یاد میں بے قابو ہوا جاتا ہے۔اے اللہ! رحم کر رحم میرے مولا ہم کون؟ جو تیری قضا کے فیصلہ کے سامنے کسی قسم کی چون و چرا کریں۔تو گواہ ہے کہ باوجود اسکی تمام تلخیوں