حیات بشیر

by Other Authors

Page 469 of 568

حیات بشیر — Page 469

469 تھا۔سپرد خاک کر دیا گیا۔فانا للہ وانا الیہ راجعون۔‘ ۱۶ حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب حضرت میاں صاحب کی دو دعاؤں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ذاتی دعاؤں میں ابا جان دو باتوں کے لئے بہت دعا فرمایا کرتے تھے۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رضا کے راستہ پر چلنے کی توفیق بخشے اور دوم انجام بخیر ہو۔اس آخری امر کیلئے بڑی تڑپ رکھتے تھے۔اور ہمیشہ اس پر زور دیا کرتے تھے۔مجھے کئی بار فرمایا کہ ایک انسان ساری عمر نیکی کے کام کرتا ہے لیکن آخر میں کوئی ایسی بات کر بیٹھتا ہے جو خدا کی ناراضگی کا مورد ہو جاتی ہے۔اور جہنم کے گڑھے کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔ایک دوسرا انسان ساری عمر بد اعمالی میں گزارتا ہے لیکن آخر میں ایسا کام کر جاتا ہے جو خدا کی خوشنودی کا باعث ہو جاتا ہے۔سو اصل چیز انجام بخیر ہے اور اس کیلئے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے۔خود اپنے لئے اسکی ہمیشہ سے بہت دعا فرمایا کرتے تھے۔اور کسی سے کہا کہ میں نے ایک مرتبہ بڑے اضطرار سے یہ دعا دعا کی اور خدا سے درخواست کی کہ اسکے بارہ میں مجھے کوئی تسلی دے دے۔اس دعا پر جو اغلبا قرآن شریف کی تلاوت کے دوران میں کر رہے تھے۔یکدم قرآن شریف کے سامنے کے دونوں ورق سفید ہو گئے اور دائیں ورق پر موٹے الفاظ میں صرف یہ دو لفظ لکھے نظر آئے بغیر حساب۔“ محترم صاحبزادہ صاحب موصوف آپ کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: غرض تعلق باللہ عشق رسول اور عشق مسیح زمان سے گہری وابستگی ،خلیفہ وقت کی بے مثال اطاعت اور فرماں برداری خلق خدا سے بے پایاں شفقت غرباء سے ہمدردی مرکز سے گہرا لگاؤ اور اسلام اور احمدیت کے مستقبل پر کامل یقین آپ کی زندگی کے خصوصی پہلو تھے۔اپنی ساری عمر اپنی تمام تر طاقت اس کوشش میں صرف کی کہ خدا کا نام بلند ہو اور اس کی مخلوق کی بھلائی ہو عین جوانی میں وقف دین کا عہد باندھا اور آخری سانس تک اسے بڑے ذوق اور شوق سے نبھایا۔احمدیت کی یہ مایہ ناز شخصیتیں زمانہ کے لحاظ سے ہمارے بہت قریب کھڑی ہیں اور ہم ان کی قدر ومنزلت اور مقام کا صحیح