حیات بشیر

by Other Authors

Page 467 of 568

حیات بشیر — Page 467

467 جنازہ اٹھانے اور کندھا دینے کا منظر ”آخری زیارت کا سلسلہ مجبوراً بند کرنے کے بعد جنازہ حضرت میاں صاحب کی کوٹھی سے ساڑھے پانچ بجے شام اُٹھایا گیا۔کوٹھی کے احاطہ میں جنازہ خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے افراد ، صحابہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام، ناظر و وکلاء صاحبان ، امراء اضلاع، صدر صاحبان محلہ جات، مجلس انصار اللہ مرکزیہ اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی مجالس عاملہ کے ارکان نے اپنے کندھوں پر اٹھایا۔کوٹھی کے باہر سڑک کے ساتھ ساتھ بہشتی مقبرہ تک سڑک کے دونوں طرف احباب جماعت قطاریں باندھے کھڑے تھے۔جنازہ جب کوٹھی سے باہر سڑک پر پہنچا تو تمام دیگر احباب کو کندھا دینے کی اجازت دی گئی۔ہر چند اس خیال سے کہ سب دوستوں کو کندھا دینے کا موقعہ مل سکے۔جنازہ کی چار پائی کے ساتھ دونوں طرف بہت لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تھے اور جنازہ کے ارد گرد خدام کی ڈیوٹیاں مقرر کر دی گئی تھیں کہ وہ بسہولت کندھا دینے میں لوگوں کی مدد کر سکیں۔پھر بھی احباب کا ہجوم اس قدر تھا کہ کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کی خاطر ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔اس طرح ہزارہا غمناک مخلصین کے کندھوں پر جنازہ چھ بجے شام کے قریب بہشتی مقبرہ پہنچائے جنازه بہشتی مقبرہ کے وسیع احاطہ میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدر انجمن احمدیہ نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں قریباً پندرہ ہزار احباب شریک ہوئے۔بہت سے احباب نے جو لاریوں کے ذریعہ اسی وقت ربوہ پہنچے تھے اڈہ سے سیدھے بہشتی مقبرہ پہنچ کر نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔نماز میں احباب پر رقت کا ایک ایسا عالم طاری تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔نماز جنازہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے چار کی بجائے پانچ تکبیریں کہیں۔کیونکہ بعض خاص مواقع پر آنحضرت ﷺ کا نماز جنازہ میں چار سے زیادہ تکبیریں کہنا ثابت ہے ابتداء علی بہشتی مقبرہ کے احاطہ میں سفیدی سے قبلہ رخ خطوط لگا کر ۲۱ صفوں کی گنجائش رکھی گئی تھی لیکن یہ انتظام ناکافی ثابت ہوا۔اور صفوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گئی اور بعد میں آنیوالے احباب نماز میں شریک ہونے کی خاطر بعجلت احاطہ سے باہر ہی صفیں