حیات بشیر — Page 466
466 حالات درج کئے گئے ہیں۔ان سے کسی قدر اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضرت میاں صاحب نور اللہ مرقدہ کے ساتھ جماعت کو کس قدر گہرا تعلق اور لگاؤ تھا۔الفضل لکھتا ہے: احباب کی اس قدر کثیر تعداد کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ احباب کو حضرت میاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ مبارک کی زیارت کا موقعہ دینے کا انتظام اولین فرصت میں کیا جائے تاکہ سب احباب زیارت کا شرف حاصل کر سکیں۔چنانچہ مستورات کے لئے صبح دس بجے سے لیکر بارہ بجے تک اور مردوں کے لئے اڑہائی بجے سے ساڑھے چار بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا۔لیکن یہ وقت ناکافی ثابت ہوا۔مستورات نے ایک خاص نظام کے ماتحت دس بجے صبح سے ڈیڑھ بجے دوپہر تک زیارت کا شرف حاصل کیا۔پھر بھی بہت سی مستورات کو قلت وقت کے ماتحت اس شرف سے محروم رہنا پڑا۔نماز ظہر کے بعد دو بجے سے مردوں کو زیارت کو موقعہ دیا گیا۔سب سے پہلے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام، ناظر و وکلاء صاحبان امرائے اضلاع، ربوہ کے صدران محلہ جات، مجلس انصار اللہ مرکز یہ اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے عہدیداران نے باری باری زیارت کی۔بعد ازاں جملہ احباب باری باری ایک قطار کی شکل میں حضرت میاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازہ کے پاس سے تیز رفتاری سے گذر کر زیارت کا شرف حاصل کرتے رہے۔یہ سلسلہ ۲ بجے سے لے کر سوا پانچ بجے تک مسلسل جاری رہا۔اس عرصہ میں تقریباً دس ہزار افراد چہرہ مبارک کی آخری زیارت سے مشرف ہوئے۔اس کے باوجود احباب کی ایک بہت بڑی تعداد ابھی باقی تھی۔چنانچہ مجبوراً اس سلسلہ کو بند کرنا پڑا۔اس موقعہ پر محروم دیدار احباب کی بیتابی اور اضطراب کی حالت قابل دید تھی۔وہ ڈیوٹی پر مقرر افراد کی منتیں کرتے بے حال ہوتے جارہے تھے کہ کسی طرح انہیں اپنے جان و دل سے عزیز مربی و محسن کے چہرہ مبارک کی آخری بار ایک جھلک نصیب ہو جائے۔ادھر جن احباب کو آخری دیدار کا شرف حاصل ہوا۔ان کی حالت بھی کچھ کم غیر نہ تھی۔کونسی آنکھ تھی جو آنسو نہ بہا رہی تھی اور کونسا دل تھا جو غم کی پوٹ نہ بنا ہوا تھا۔بعض احباب کی تو طبیعت پر ہزار ضبط کے باوجود چیچنیں نکل کیں۔اس وقت بعض عمر رسیدہ احباب بچوں کی طرح روتے اور بلکتے ہوئے دیکھے گئے۔“