حیات بشیر

by Other Authors

Page 468 of 568

حیات بشیر — Page 468

468 66 بناتے چلے گئے۔قبر کی تیاری اور تدفین نماز کے بعد جنازہ حضرت اُم المومنین نور اللہ مرقدھا کے مزار اقدس والی چار دیواری کے اندر لے جایا گیا اس چار دیواری کا احاطہ محدود ہونے کے باعث خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کے علاوہ صرف صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، ناظر و وکلاء صاحبان ، امراء اضلاع ، صدر صاحبان محلہ جات اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کو ہی جنازہ کے ہمراہ چار دیواری کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔باقی احباب چاردیواری سے باہر بہشتی مقبرہ کے احاطہ میں کھڑے دعائیں کرتے اور درود شریف پڑھتے رہے۔تابوت کو قبر کے اندر اُتارنے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب، محترم صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب اور محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب کے علاوہ محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور بعض دوسرے صاحبزادگان نے حصہ لیا۔بعد ازاں چاردیواری کے اندر موجود احباب نے قبر کو مٹی دی۔اور قبر تیار ہونے پر محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے ایک پر سوز اور رقت آمیز دعا کرائی۔جس میں جملہ احباب شریک ہوئے۔حضرت میاں صاحب کے جسد اطہر کو حضرت ام المؤمنین نور اللہ مرقدھا کے قدموں کی جانب چار دیواری کے جنوبی قطعہ میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔اس طرح ہزار ہا محزون و غمناک قلوب ،اشکبار آنکھوں اور سوز وگداز سے معمور درد مندانہ دعاؤں کے درمیان اس مقدس و بابرکت وجود کا جسد اطہر جو عظیم الشان خدائی نشانوں اور آسمانی بشارتوں کا مظہر ہونے کے باعث جماعت کے لئے ایک ستون کی حیثیت رکھتا تھا۔اور ابتلاؤں کے اوقات میں احباب جماعت کیلئے ایک ڈھارس کا کام دیتا تھا۔اور قدم قدم پر کمال دانشمندی اور غیر معمولی فراست کی بدولت به تائید و توفیق الہی ان کی رہنمائی فرماتا