حیات بشیر — Page 397
397 آپ کی دوررس نگاہیں یہ جان گئی تھیں کہ لاہور کی گندی فضا ضرور اثر انداز ہوگی اور میں تعلیم صحیح معنوں میں جاری نہ رکھ سکوں گا۔“ میاں نعیم الرحمن صاحب ہی کا بیان ہے کہ: میں اپنے سالانہ امتحانات سے قبل ضرور حضرت میاں صاحب کی خدمت میں دعا کی غرض سے حاضر ہوا کرتا تھا۔کتنی تسلی ہو جاتی تھی جب حضرت میاں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ضرور اپنا فضل نازل فرمائے گا۔میں دعا کرتا ہوں۔“ آپ ہمیشہ یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ پرچہ شروع کرنے سے پہلے دعا ضرور کر لینی چاہیے۔“ ایک اور بات جس پر آں محترم بہت زور دیا کرتے تھے۔یہ تھی کہ مقررہ وقت سے قبل کبھی کمرہ امتحان سے نہیں اٹھنا چاہیے اور پرچہ کو بار بار دہرانا چاہیے۔“ آپ کی شدید خواہش تھی کہ احمدی طالب علم اعلیٰ سے اعلیٰ پوزیشن حاصل کریں اور نمایاں اعزاز کے ساتھ امتحانات میں کامیاب ہوں۔محض پاس ہونا آپ کی نظروں میں کوئی وقعت نہ رکھتا تھا۔میں ایک دفعہ آپ کے پاس ملاقات کی غرض سے حاضر ہوا۔ہمارے سالانہ امتحانات قریب آ رہے تھے۔میں نے حضرت میاں صاحب سے عرض کی کہ آپ دعا فرمائیں۔اللہ تعالی نمایاں کامیابی عطا فرمائے۔اس پر آپ فرمانے لگئے میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اپنا فضل اور رحم فرمائے۔“ اس کے بعد میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر فرمایا۔اول آنے کی کوشش کرو۔مقابلہ میں معمولی معمولی باتوں کا بہت فرق پڑ جایا کرتا ہے۔آپ نے سُنا ہو گا۔بعض اوقات گھوڑ دوڑ میں ایک گھوڑا محض اپنی گردن لمبی ہونے کی وجہ سے دوسرے گھوڑے پر سبقت لے جایا کرتا ہے۔اس لئے چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی نظر انداز نہ کرنا چاہیے۔“ ایک اور موقعہ پر آپ نے نہایت ہی سادہ اور پُر وقار انداز میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔آخر امتحان میں کسی ایک نے تو اول آنا ہی ہے تو وہ ایک آپ کیوں نہیں ہوتے۔“ چونکہ طالب علموں کی اعلیٰ کامیابی کا انحصار بہت حد تک سکولوں اور کالجوں کے نیک اور محنتی اساتذہ پر ہوتا ہے۔اس لئے آپ اساتذہ کو بھی اس امر کی تلقین فرماتے رہتے تھے کہ پوری کوشش اور توجہ کے ساتھ قوم کے نونہالوں کی تعلیم میں دلچسپی لیا کریں۔چنانچہ آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے ہیڈ ماسٹر میاں محمد ابراہیم صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: