حیات بشیر — Page 398
398 " مجھے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی ترقی اور نتائج کی بہتری کے ساتھ بے حد دلچسپی ہے کیونکہ میں خود اس سکول کا طالب علم رہا ہوں بلکہ اس سکول میں پڑھاتا بھی رہا ہوں اور کافی لمبے عرصہ تک مینیجر بھی رہا ہوں اور پھر ناظر لعلیم بھی رہا ہوں۔میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں لیکن جب بھی توفیق ملتی ہے تو دعا کرتا ہوں۔کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس سکول کو ایسی ترقی دے کہ وہ ایک مثالی درس گاہ بن جائے۔اس میں تعلیم پانے والے بچے اخلاق اور دینداری میں نمونہ بنیں۔اس کے نتائج بہترین ہوں اور کمیت اور کیفیت ہر دو کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہوں۔مگر اللہ تعالیٰ کی سنت کے ماتحت یہ بات صرف دعا سے حاصل نہیں ہو سکتی۔اس میں بہت سی دوسری باتوں کا بھی دخل ہوتا خصوصاً اساتذہ کرام کی کوشش اور توجہ اور پھر طلبا کی کوشش اور توجہ کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔بہر حال میں دعا کرتا ہوں اور انشاء اللہ کروں گا کہ اللہ تعالیٰ اس سکول کو ہر رنگ میں انتہائی ترقی دے اور ہماری یہ درسگاہ حقیقی معنوں میں اور ہر جہت سے ایک مثالی درسگاہ بن جائے۔اے آپ ایک اور مکتوب میں فرماتے ہیں: ” ہم سکول کو ہر جہت سے ایک ماڈل سکول دیکھنا چاہتے ہیں۔“ ہے ہے اور اسی طرح آپ ایک اور مکتوب میں فرماتے ہیں: میں آپ کی مشکلات کو بھی جانتا ہوں مگر مشکلات پر قابو پانا بھی مرد مومن کا ہی کام ہے۔آپ ہمت کریں اور سکول کو خدائی امانت سمجھ کر کام کریں اور عملہ میں بھی یہی رُوح قائم کریں۔پھر انشاء اللہ برکت ملے گی۔“ سے ایک مرتبہ سکول کے نتائج اور تعلیمی کوائف سے نہایت ہی گہری دلچسپی لیتے ہوئے تحریر فرمایا: ایسی کوشش فرمائیں کہ آپ کا قدم ہر سال آگے بڑھتا چلا جائے اور نہ صرف فیصدی کے لحاظ سے بلکہ کیفیت کے لحاظ سے بھی نمایاں ترقی نظر آئے۔میں آپ کے ، وو سکول کے لئے بہت دعا کرتا ہوں اور اسے اپنی چیز سمجھتا ہوں۔“ ہے محترم پروفیسر بشارت الرحمن صاحب ایم اے کا بیان ہے کہ ”خاکسار نے میٹرک میں ۷۱۱/۸۵۰ نمبر (۱/۲ ۸۳ فیصد) لئے تھے اور یونیورسٹی میں ممتاز پوزیشن حاصل کی تھی۔مسلمان طلبا میں سے فرسٹ تھا۔ایف اے کا نتیجہ نکلا تو