حیات بشیر — Page 396
396 پانچواں باب طالبعلموں اور دیگر احباب کو نہایت صائب مشورے اور زریں نصائح حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو احباب جماعت کی تربیت خصوصاً طالبعلموں کی فلاح و بہبود کی از حد فکر رہتی تھی۔اس لئے اگر راہ چلتے بھی کوئی طالب علم آپ کو ملتا تو آپ اس کے تعلیمی حالات دریافت کر کے اسے مفید مشورہ دیتے تھے۔طالبعلم بھی آپ کو اپنا حقیقی خیر خواہ سمجھتے تھے۔اس لئے اپنے مستقبل کے متعلق مشورہ حاصل کرنے کے لئے عموماً آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے۔مکرم میاں نعیم الرحمن صاحب درد ابن حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درد کا بیان ہے کہ میٹرک کا امتحان پاس کر لینے کے بعد میری اور بعض اور لوگوں کی خواہش تھی کہ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ کی بجائے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا جائے۔والدہ صاحبہ محترمہ کے کہنے پر میں اس معاملہ میں مشورہ حاصل کرنے کے لئے حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ میری ساری باتیں بڑی توجہ اور غور سے سنتے رہے۔مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے آپ میری ان باتوں سے متفق ہیں۔جب میں سب کچھ کہہ چکا تو تھوڑے سے وقفہ کے بعد اپنے مخصوص انداز میں فرمانے لگے میری رائے یہی ہے کہ تم ربوہ میں پڑھو۔ابھی تمہارا ذہن پختہ نہیں۔جتنی یہاں حاصل کر سکتے ہو یہیں حاصل کرو۔چنانچہ میں نے آپ کے فرمان کے مطابق تعلیم الاسلام کا لج ربوہ میں داخلہ لے لیا۔اگر چہ اپنی ناسمجھی کی وجہ سے شروع شروع میں افسوس بھی ہوا۔کہ خواہ مخواہ حضرت میاں صاحب سے اس کے متعلق بات کی۔لیکن بعد میں مجھے خود اس کا شدت سے احساس ہوا کہ آپ ہی صحیح فرماتے تھے۔