حیات بشیر

by Other Authors

Page 358 of 568

حیات بشیر — Page 358

358 مغربی پاکستان لاہور اور میاں عبدالباری صاحب ممبر قومی اسمبلی کی طرف سے خطوط آنے پر آپ نے جو جواب بھجوائے ، درج کئے جاتے ہیں: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مکرمی و محترمی کیانی صاحب آپ کا مکتوب گرامی محرره ۴/ جون ۱۱ء مجھے آج ۲۰ رجون کو موصول ہوا۔تاخیر کی وجہ آپ نے خود تحریر فرما دی ہے کہ آپ اس عرصہ میں بیمار رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے اور آپ کو ملک و ملت کی بیش از بیش خدمت کی توفیق دے۔کسی امر میں رائے کا اختلاف جدا گانہ بات ہے۔مگر میرے دل میں آپ کی بڑی قدر ہے۔باقی رہا اولوالامر کا سوال۔سو یہ ایک قرآنی آیت ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو خدا اور رسول اور اولوالامر کی اطاعت کرنی چاہیے۔اسی آیت کا میرے مضمون میں حوالہ دیا گیا ہے۔اس پر آپ نے جو سوال اُٹھایا ہے کہ اگر کسی اولوالامر کا حکم صریح طور پر غلط اور ظالمانہ ہو تو اس کے متعلق کیا کیا جائے۔سو اس بارہ میں بھی ہماری کامل شریعت خدا کے فضل سے خاموش نہیں۔اس جگہ مختصر طور پر صرف دو حدیثیں آپ کے غور کے لئے لکھتا ہوں۔حدیث اول: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أَحَبّ و كَرِهَ مالم يومر بمعصية فاذا امر معصية فلا سمع ولا طاعة - یعنی ہر مسلمان پر امیر کا حکم ماننا فرض ہے خواہ وہ حکم اسے پسند ہو یا ناپسند ہو۔لیکن اگر کوئی ایسا حکم دیا جائے جس میں خدا کے صریح قانون کی نافرمانی لازم آتی ہو تو ایسے حکم کا ماننا اس پر فرض نہیں۔وو دوسری حدیث: بـايـعـنـا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة في منشطنا ومكرمنا و عسرنا ويسرنا و اثرة علينا وعلى الاننازع الا مراهله الا ان تروا كفراً بواحا عند كم من الله فيه برهان - یعنی ایک مشہور صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بیعت کے وقت یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ ہم ہر حال میں امیر کی اطاعت کریں گے خواہ اس کا حکم ہمیں پسند ہو یا نا پسند ہو اور خواہ اس حکم کے نتیجہ میں ہمیں تنگی پیدا ہویا فراخی پیدا ہو اور خواہ ہمارے حقوق ہمیں ملیں یا ہم سے چھینے جائیں اور یہ کہ ہم کسی ނ