حیات بشیر — Page 359
359 -۳۹ -3 حالت میں بھی امیر کے ساتھ امارت کے معاملہ میں تنازعہ نہیں کریں گے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر تم اپنے امیر کے رویہ میں کوئی ایسا حکم پاؤ جس میں خدا کے کسی صریح حکم کی اصولی نافرمانی ہو اور اس کے متعلق تمہارے پاس خدا کی طرف سے کوئی روشن اور قطعی دلیل موجود ہو تو پھر اور بات ہے۔فی الحال صرف یہ دو حوالے نقل کر کے بھجواتا ہوں۔جو آپ جیسے ذہین اور زیرک اور معاملہ فہم بزرگ کے لئے کافی ہونے چاہئیں۔اصل بات یہ ہے کہ اسلام انتہا درجہ نظم وضبط کا مذہب ہے۔اسی لئے اس میں سوائے بالکل انتہائی حالات کے ملک کے اندرونی امن کو برقرار رکھنے اور مقدم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔میں بھی آجکل ہیٹ سٹروک کی وجہ سے علیل ہوں۔اس لئے امید ہے آپ فی الحال اسی قدر جواب کو کافی خیال فرمائیں گے۔مکرم و محترم میاں عبد الباری صاحب ممبر قومی اسمبلی ۲۰-۶-۶۱ مرزا بشیر احمد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے ہر دو خطوط موصول ہو کر باعث شکریہ و مسرت ہوئے۔جزاکم اللہ خیراً۔دلی دعا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کو ملک و ملت کی بہترین خدمت کی توفیق دے اور روح القدس سے آپ کی نصرت فرمائے اسوقت ملک کو بڑے مخلص اور دلیر اور دیانت دار اور انصاف پسند اور سمجھدار قومی خادموں کی ضرورت ہے۔آپ خاص کوشش سے اپنے ساتھ ایسے ممبر جمع کر لیں جو تمام دوسرے خیالات سے بالا ہو کر ان بنیادی نظریات پر بنیان مرصوص کی طرح اکٹھے ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔مرزا بشیر احمد ۶۲-۳-۲۵ ضلع لاہور کی ایک بچی کے والد صاحب اور بھائی احمدی نہیں ہیں۔اس کی حضرت میاں صاحب کے ساتھ خط و کتابت رہتی تھی۔وہ اپنی مشکلات لکھ کر آپ کے حضور بھیج دیا کرتی تھی۔خصوصاً جب جلسہ سالانہ کے دن قریب آتے تو وہ بہت پریشان ہو کر آپ کی خدمت میں لکھتی کہ حضور! میں کیا کروں جلسہ پر آنے کی اجازت نہیں ملتی۔میرا دل آپ کی زیارت کے لئے تڑپتا ہے اور جلسہ سالانہ دیکھنے کے لئے بھی بے قرار ہوں۔حضور میرے لئے دعا فرماویں کہ