حیات بشیر

by Other Authors

Page 290 of 568

حیات بشیر — Page 290

290 حضرت میاں صاحب کی اس تجویز سے پتہ چلتا ہے کہ جس طرح حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ظاہری اور باطنی علوم سے پر اور مؤید من اللہ تھے اسی طرح آپ بھی حضور کے نقش قدم پر چل رہے تھے۔مجھے یاد ہے۔میرے ہاں ایک بچی پیدا ہوئی جس کا نام تجویز کرنے کے لئے میں نے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھا اور ساتھ ہی لکھا کہ اس سے بڑی لڑکیوں کے نام عایشہ صدیقہ اور مریم صدیقہ ہیں حضور نے تیسری بچی کا نام طاہرہ تجویز فرمایا۔سال سوا سال زندہ رہ کر وہ بچی فوت ہوگئی۔کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک اور بچی عطا فرمائی۔اس اثنا میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز چاقو کے حملہ کی وجہ سے صاحب فراش تھے۔میں نے حضرت میاں صاحب کی خدمت میں دونوں بڑی بچیوں کے نام لکھ کر تیسری بچی کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی۔عجیب بات یہ ہے کہ آپ نے بھی ”طاہرہ نام ہی تجویز فرمایا۔اسی طرح جب میرے لڑکے عزیز عبدالہادی نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا تو میری تحریک پر وہ زندگی وقف کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔اتفاق سے ان ایام میں حضرت میاں صاحب لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔میں اسے لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ بچہ واقف زندگی ہے اور گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کر چکا ہے۔حضور ارشاد فرمائیں کہ اب اسے کس کالج میں داخل کیا جائے۔آپ نے بلا توقف فرمایا اسے مغلپورہ انجینئرنگ کالج میں داخل کرا دو۔مجھے چاہیے تھا کہ میں فوراً سرتسلیم خم کرتا۔مگر میں نے کم فہمی کی وجہ سے عرض کی کہ حضور! یہ انجینئر بن کر کیا تبلیغ کرے گا۔اگر اسے ایم ایس سی کرایا جائے تو اپنے کالج میں بھی لگ سکتا ہے اور بیرون پاکستان بھی بھیجا جا سکتا ہے۔آپ نے فرمایا جس شخص نے تبلیغ کرنی ہے اس نے انجینئر بن کر بھی کرنی ہے اور جس نے نہیں کرنی اس نے مبلغ بن کر بھی نہیں کرنی۔ساتھ ہی فرمایا کہ ربوہ چلے جاؤ اور ”میاں ناصر احمد صاحب سے مشورہ لو۔(ان ایام میں حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وكيل التبشير و وکیل الاعلیٰ تحریک جدید یورپ تشریف لے گئے ہوئے تھے۔اگر وہ یہاں ہوتے تو تحریک کے انچارج ہونے کی وجہ سے مجھے ان کی خدمت میں بھی حاضر ہونا چاہیے تھا) میں ربوہ گیا۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری ایڈیٹر رسالہ الفرقان کے دفتر میں جا کر ابھی بیٹھا ہی تھا کہ حضرت میاں ناصر احمد صاحب سے ملاقات کرنے کا ذکر کیا۔انہوں نے فرمایا۔میاں صاحب کراچی تشریف لے جا رہے ہیں اور