حیات بشیر

by Other Authors

Page 289 of 568

حیات بشیر — Page 289

289 ہر وقت مصروف رہتے ہیں۔حضرت میاں صاحب کی زندگی کے اُن ایام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں جب کہ آپ جولائی ۱۹۴۷ء میں ضربة الشمس (ہیٹ سٹروک) کی وجہ سے شدید بیمار تھے کہ آپ دفتر میں موجود تھے۔بخار تیز ہو رہا تھا اور خطوط کے جوابات لکھوا رہے تھے اور بیماری کا اثر آپ کی زبان پر بھی ظاہر تھا۔لکھاتے وقت بعض وقت صحیح لفظ نہ بول سکتے تو پھر جیسے کوئی زور لگا کر تصحیح کرتا ہے آپ دوبارہ اور سہ بارہ وہی لفظ بولتے تو آپ کی زبان سے صحیح لفظ نکلتا۔91 گہرا غور وفکر ایک خاص وصف آپ میں یہ پایا جاتا تھا کہ آپ مطالعہ کرتے وقت اس قدر گہرے غور و فکر سے کام لیتے تھے کہ حیرت ہوتی ہے۔تقسیم ملک سے دس سال قبل کی بات ہے آپ نے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھا آجکل میں تذکرہ کا کسی قدر بغور مطالعہ کر رہا ہوں۔مجھے بعض الہامات وغیرہ سے پر محسوس ہوتا ہے کہ شاید جماعت احمدیہ پر یہ وقت آنیوالا ہے کہ اسے عارضی طور مرکز سلسلہ سے نکلنا پڑے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورت حال غالباً گورنمنٹ کی طرف سے پیدا کی جائے۔اگر میرا یہ خیال درست ہے تو اس وقت کے پیش نظر ہمیں کچھ تیاری کرنی چاہیے۔مثلاً مذہبی اور قومی یاد گاروں اور شعائر اللہ کی حفاظت کا انتظام وغیرہ۔تا کہ اگر ایسا وقت مقدر ہے تو جماعت کے پیچھے اُن کی حفاظت رہے اور نشانات محفوظ رہیں۔اسی طرح دوسری باتیں سوچ رکھنی چاہئیں۔“ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کا جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ میں تو ہیں سال سے یہ بات کہہ رہا ہوں۔حق یہ ہے کہ جماعت احمد یہ اب تک اپنی پوزیشن کو نہیں سمجھی ابھی ایک ماہ ہوا میں اس سوال پر غور کر رہا تھا کہ مسجد اقصیٰ وغیرہ کے لئے گہرے زمین دوز نشان لگائے جائیں جن سے دوبارہ مسجد تعمیر ہو سکے۔اسی طرح چاروں کونوں پر دُور دُور مقامات پر مستقل زمین دوز نشانات رکھے جائیں جن کا راز مختلف ممالک میں محفوظ کر دیا جائے تا اگر ان مقامات پر دشمن حملہ کرے تو اُن کو از سر نو اپنی جگہ پر تعمیر کیا جا سکے۔پاسپورٹوں کا سوال بھی اسی پر مبنی تھا۔۹۲