حیات بشیر — Page 221
221 ساتھ غیر معمولی اہتمام کے ساتھ نتھی کر کے رکھا ہوا تھا۔حضرت اماں جان کے ابا جان کے ساتھ اس تعلق کا حضرت صاحب کو بھی احساس تھا جب قادیان سے یہ خبریں آنی شروع ہوئیں کہ مقامی حکام کے ارادے اچھے نہیں اور وہ کسی نہ کسی بہانے ابا جان کو قید کرنا چاہتے ہیں تو حضرت صاحب نے اس وجہ سے اور پھر جماعتی کاموں کی خاطر اباجان کو حکم دیا کہ پاکستان چلے آئیں۔ابا جان بڑے مخدوش حالات میں قادیان سے روانہ ہو کر لاہور پہنچے۔حضرت صاحب نے اباجان کے لاہور پہنچنے پر سجدہ شکر کیا اور پھر ننگے پاؤں شوق سے ابا جان کا ہاتھ پکڑ کر حضرت اماں جان کے پاس لے آئے اور فرمایا: لیں اماں جان۔آپ کا بیٹا آ گیا ہے۔“ اپنی اہلیہ صاحبہ کے ساتھ جو سلوک آپ نے کیا بالخصوص ان کی سات سالہ لمبی بیماری کے ایام میں۔اس کا ذکر حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب سلمہ نے ان الفاظ میں کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: ”والدہ کی گذشتہ سات سالہ لمبی بیماری کے دوران میں جس میں بعض ایام میں متحمل بیماری کی شدت اور تکلیف بہت بڑھ جاتی تھی۔آپ نے جس خوشی اور صبر سے ان کی تیمارداری کی وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔باوجود اس کے کہ خود بیمار رہتے تھے لیکن پھر بھی دن اور رات میں متعدد مرتبہ والدہ کے کمرہ میں تشریف لاتے۔طبیعت پوچھتے اور ساتھ بیٹھتے دعائیں کرتے رہتے۔میری آنکھوں کے سامنے یہ سب نظارے اب بھی تازہ ہیں۔بعض مرتبہ خود اتنی تکلیف میں ہوتے تھے کہ مشکل سے چل سکتے تھے۔لیکن اس حالت میں بھی کراہتے۔سوئی یا دیوار کا سہارا لیتے ہوئے اور کافی دیر پاس بیٹھ کر تسلی دیتے اور دعائیں کرتے رہتے۔سچ تو یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ہم بہن بھائی بھی والدہ کی خدمت کرتے رہے (اور اللہ تعالیٰ مزید کی بھی توفیق دے اور گو ہم جوان تھے لیکن یہ ساری خدمت اباجان کی خدمت کا پاسنگ بھی نہ تھی اور میں تو کئی مرتبہ اس (Contrast) کا احساس کرتے ہوئے شرمندہ ہو جاتا تھا۔میرے خیال میں آپ کی اپنی بیماری کا زیادہ حصہ حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالی