حیات بشیر

by Other Authors

Page 140 of 568

حیات بشیر — Page 140

140 موعود ال نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر جو پیشگوئیاں کی ہیں انہیں نمایاں کر کے یورپ اور امریکہ کے سامنے لایا جائے تاکہ اُن پر حجت پوری ہو۔۳۹۰ے خدام الاحمدیہ کو پیغام ۲۰ را گست مجلس خدام الاحمدیہ کراچی نے اپنے سالانہ اجتماع کے لئے آپ سے پیغام مانگا۔آپ نے انہیں لکھا کہ میرے خیال میں اس سے بہتر کوئی پیغام نہیں جو حضرت مسیح موعود ال کے اس شعر میں بیان ہوا ہے کہ بکوشید اے جواناں تابدیں قوت شود پیدا بہار و روضه ملت شود رونق اندر پیدا اور آپ نے لکھا کہ احمدیت کے نوجوان دین کے چڑھتے ہوئے ستارے ہیں جن کے ہاتھ میں آئندہ چل کر احمدیت کی ذمہ داریاں آنے والی ہیں۔اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور جدوجہد سے کام لیں تو اسلام میں شان وشوکت کا دوسرا دور جلد تر آ سکتا ہے بلکہ اس کا آنا مقدر ہے۔بشرطیکہ ہماری کوششوں میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔۳۹۱؎ انصار اللہ کے فرائض اکتوبر ۵۷ء میں انصار اللہ کے تیسرے سالانہ اجتماع کے لئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک نوٹ لکھا جو مکرم مولوی ابوالعطاء صاحب نے اجتماع کے آخری اجلاس منعقدہ ۲۶ اکتوبر میں پڑھ کر سنایا۔اس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ انصار اللہ کا کام دراصل چار حصوں پر تقسیم شده پر تقسیم شدہ ہے۔اول تبلیغ، دوم تربیت، تیسرے تنظیم اور چوتھے ان کاموں کو چلانے کے لئے روپیہ کی فراہمی۔‘ ۳۹۲۔احمدیت کا مستقبل مشتمل دسمبر ۵۷ء میں آپ نے احمدیت کا مستقبل کے نام سے ۳۲ صفحات پر من ایک رسالہ لکھا جو اس سوال کے جواب میں تھا کہ موجودہ رفتار کے ساتھ جماعت اپنے منزل مقصود کو کس طرح پہنچے گی آپ نے لکھا کہ سارے الہی سلسلوں کی ابتداء اسی طرح ہوا کرتی ہے اور سوائے خاص طور پر زیرک اور دُور بین انسانوں کے ابتدائی بیج سے عموماً اس درخت کا پتہ نہیں چلا کرتا جو بالآخر اس بیج سے پیدا ہونا مقدر ہوتا ہے۔‘ ۳۹۳۔۔