حیات بشیر

by Other Authors

Page 132 of 568

حیات بشیر — Page 132

132 کا سامان بھی مہیا کریں۔“ درخواست دعا جولائی ۵۵ء میں آپ نے پھر اپنی کمزوری صحت کا ذکر کرتے ہوئے دوستوں سے اس دعا کی درخواست کا اعادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل وکرم سے صحت اور خدمت اور برکت کی زندگی عطا کرے اور قرآنی محاورہ کے مطابق میری عاقبت میری اُولیٰ سے بہتر ہو۔وما ذالک علیٰ الله بعزیز “ ۳۵۳ - حضرت اماں جی کا انتقال ۷راگست کو حضرت اماں جی حرم محترم حضرت خلیفہ المسیح الاول کا ربوہ میں انتقال ہوگیا۔اس پر آپ نے ایک تعزیتی مکتوب میں تحریر فرمایا کہ میری بھی خواہش تھی کہ میں اس موقعہ پر ربوہ جاتا مگر میرے اعصاب کی موجودہ حالت ایسی ہے کہ میں اس صدمہ کو برداشت نہیں کر سکتا۔میری طرف سے سب عزیزوں کو ہمدردی کا پیغام پہنچا دیں۔۳۵۴ ۳۱ راگست کو بعد دو پہر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لاہور سے ربوہ تشریف لے آئے۔۳۵۵ حضور کی استقبالیہ کمیٹی کو ہدایات ۱۴ ستمبر کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت امیر المؤمنین کی استقبالیہ کمیٹی کے قائمقام صدر مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس اور کمیٹی کے سیکرٹری مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب سے سیدنا حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے استقبال کے انتظامات پر تبادلہ خیالات فرمایا۔نیز آپ موٹر میں اس راستے پر دُور تک تشریف لے گئے جو استقبال کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور وہاں مختلف موقعوں پر پہنچ کر ان انتظامات کے عملی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور کمیٹی کے ارکان کو قیمتی مشوروں اور ہدایات سے نوازا۔۳۵۶ے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ کی سفر یورپ سے واپسی ۲۵ ستمبر کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سفر یورپ سے واپسی کے بعد کراچی سے ربوہ تشریف لائے۔سٹیشن پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب امیر مقامی اور خاندان حضرت مسیح موعود ال کے افراد، صحابہ کرام، ناظر اور وکلاء صاحبان اور استقبالیہ کمیٹی کے جملہ ارکان حضور کے خیر مقدم کیلئے موجود تھے۔سب سے پہلے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضور سے