حیات بشیر — Page 133
133 مصافحہ کیا اور اس کے بعد دوسرے احباب نے۔اس کے بعد حضور اہل قافلہ کے ہمراہ قصر خلافت کی طرف روانہ ہوئے۔سب سے انگلی کار میں عقبی سیٹ پر حضور تشریف فرما تھے اور حضور کے ساتھ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔مسجد مبارک کے قریب حضور نے کار سے اتر کر مسجد میں قبلہ رُخ کھڑے ہو کر دعا کرائی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور دوسرے معزز دوست اس وقت حضور کے پیچھے کھڑے تھے۔دعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ کر اپنے گھر تشریف لے گئے۔۳۵۷۔حضرت امیر المؤمنین کی شفقت ۲۳ اکتوبر کو آپ پھر مع بیگم صاحبہ علاج کی غرض سے لاہور تشریف لے گئے۔۳۵۸۔چونکہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بھی ۵/ نومبر کو لاہور تشریف لے آئے۔اس لئے حضور روزانہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ کی طبیعت پوچھنے تشریف لے جاتے رہے۔۳۵۹۔عام الحزن ۷ دسمبر ۵۵ء کو مکرم درد صاحب وفات پاگئے۔آپ نے ان کی وفات پر لکھا کہ اس سال ہمارے بہت سے قدیم بزرگوں اور دوستوں نے وفات پائی ہے گویا یہ ہمارا عام الحزن ہے۔گو اس پہلے بھی حضرت ام المؤمنین کی وفات والے انتہائی تلخ سال کے علاوہ ہجرت والے سال یعنی عہ میں بھی ایک تلخ عام الحزن گذر چکا ہے مگر آجا کے بات وہیں آجاتی ہے کہ دنیا فانی اور ہر انسان نے آگے پیچھے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔۳۶۰ے ނ ہے ۱۴؍ دسمبر کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بذریعہ کار لاہور سے ربوہ تشریف لائے اور آپ نے درد صاحب مرحوم کے اہل وعیال سے تعزیت فرمائی۔۳۶ے ربوہ میں تین روز قیام فرمانے کے بعد ۱۱۸ دسمبر کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب پھر لاہور تشریف لے گئے۔۳۶۲ چنده امداد درویشاں کی اہمیت دسمبر ۵۵ء میں آپ نے چندہ امداد درویشاں کی اہمیت کی طرف دوستوں کو خاص طور پر توجہ دلائی اور فرمایا کہ قادیان کا درویش حلقہ دراصل ہمارے لئے ایک مقدس روضہ ہے جیسا کہ آئینہ کمالات اسلام والے کشف میں حضرت مسیح موعود ال نے اسے ایک روضہ قرار دیا