حیات بشیر — Page 374
374 دہرائیں جو اوپر لکھی گئی ہیں اور میرا دل حضور کے سامنے رکھ دیں۔-:A حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جملہ خاندان اور ہمارے ماموؤں اور ان کی اولاد کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ اولاد ذکور و اناث کے لئے بھی خاص دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور تقویٰ پر قائم رکھے اور جماعت کے لئے نمونہ بنائے۔اور ان کو دین کی نمایاں خدمت کی توفیق دے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اولاد کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیکی کی توفیق دے اور غلطیوں کی اصلاح کا رستہ کھولے اور خلافت کے ساتھ مخلصانہ وابستگی نصیب کرے۔یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میری تمام دعاؤں کو قبول فرمائے۔اور ان تمام نیک خواہشات کو پورا کرے جو میرے دل میں بچپن سے لے کر اس وقت تک وقتاً فوقتاً پیدا ہوئی ہیں اور میرے نفس کو اس طرح اپنی محبت اور تقویٰ کے ذریعہ دھو دے كما ينقى الثوب الابيض من الدنس اور مجھے قیامت میں آنحضرت علی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قرب اور حضور کی خوشنودی حاصل ہو۔اور میرے جملہ عزیز بھی -: آخرت میں میرے ساتھ رہیں۔۱۰: حضرت مسیح موعود کے صحابہ کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیک زندگیوں میں برکت دے اور ان کے روحانی فیوض کو لمبا کرے اور جماعت کے نوجوانوں کو توفیق دے کہ ان سے تقویٰ اور روحانیت کا سبق سیکھیں اور یہ نیکی کا ورثہ قیامت تک چلتا چلا جائے۔الغرض ارض حرم سے اپنی جھولی پوری طرح بھر کر واپس آئیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ میرے حج کو بہترین صورت میں قبول کرے اور آپ کو بھی ثواب سے نوازے۔آمین یا ارحم الراحمین۔ا:۔اس کے علاوہ جو نیک دعائیں آپ کو یاد ہوں یا خیال میں آئیں وہ بھی سب کریں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو بہترین دعاؤں کی توفیق دے الغرض اس سفر میں اور ارض حرم میں مجسم دعا بن جائیں۔میں نے یہ مختصر نوٹ بیماری کی حالت میں لکھے ہیں مگر جو کچھ میں نے لکھا ہے میرے دل میں اس سے بہت زیادہ نیک آرزوئیں اور نیک حسرتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ میرے عمل کے مطابق نہیں بلکہ دل کی آرزوؤں کے مطابق مجھ سے سلوک فرمائے۔آمین۔